المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کا بیان
التَّمْرُ يَضُرُّ بِالرَّمَدِ باب: آنکھوں کی بیماری (آشوبِ چشم) میں کھجور نقصان دہ ہے
حدیث نمبر: 8468
أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيّاري بمَرْو، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرني عبد الحميد بن صَيْفيّ بن عبد الله بن صُهيب، عن أبيه، عن جدِّه، أنَّ صُهيبًا قال: قَدِمتُ على النَّبِيّ ﷺ وبين يديه تمرٌ وخبزٌ، فقال: "ادنُهْ فكُلْ" فأخذتُ آكلُ من التمر، فقال: "تأكلُ تمرًا وبك رَمَدٌ؟! " فقلت: يا رسول الله، إني أمضَعُ من الناحية الأُخرى، فتبسَّم النَّبِيُّ ﷺ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8263 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ ﷺ کے سامنے کھجوریں اور روٹی رکھی تھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”قریب آ جاؤ اور کھاؤ،“ تو میں کھجوریں کھانے لگا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کھجوریں کھا رہے ہو جبکہ تمہاری آنکھ آئی ہوئی ہے؟!“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں دوسری طرف سے چبا رہا ہوں، تو نبی کریم ﷺ مسکرا دیے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث محتمل للتحسين بطرقه، وهذا إسناد فيه لِينٌ. وقد سلف برقم (5808).
درجۂ حدیث: اپنے طرق کی بنا پر یہ حدیث تحسین کا احتمال رکھتی ہے، لیکن اس سند میں "لین" (کمزوری) ہے۔ یہ نمبر (5808) پر گزر چکی ہے۔
أبو الموجَّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك.
فنی نکتہ / علّت: (راویوں کا تعین): ابو الموّجہ سے مراد محمد بن عمرو الفزاری ہیں، عبدان سے مراد عبداللہ بن عثمان المروزی ہیں، اور عبداللہ سے مراد ابن المبارک ہیں۔
درجۂ حدیث: اپنے طرق کی بنا پر یہ حدیث تحسین کا احتمال رکھتی ہے، لیکن اس سند میں "لین" (کمزوری) ہے۔ یہ نمبر (5808) پر گزر چکی ہے۔
أبو الموجَّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك.
فنی نکتہ / علّت: (راویوں کا تعین): ابو الموّجہ سے مراد محمد بن عمرو الفزاری ہیں، عبدان سے مراد عبداللہ بن عثمان المروزی ہیں، اور عبداللہ سے مراد ابن المبارک ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8468 سے ماخوذ ہے۔