المستدرك على الصحيحين
كتاب الطب— طب کا بیان
لِكُلِّ دَاءٍ دَوَاءٌ ، فَإِذَا أُصِيبَ دَوَاءُ الدَّاءِ بَرَأَ باب: ہر بیماری کی دوا ہے، جب دوا بیماری تک پہنچ جاتی ہے تو اللہ کے حکم سے شفا ہوتی ہے
حدیث نمبر: 8423
فحدَّثَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا أحمد بن عيسى، حَدَّثَنَا عبد الله بن وَهْب، أخبرني عمرو بن الحارث، عن عبد رَبّه بن سعيد (1)، عن أبي الزُّبير، عن جابر، عن رسول الله ﷺ أنه قال: "لكلِّ داءٍ دواءٌ، فإذا أُصيبَ دواء الدّاء بَرَأَ بإذن الله ﷿" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وأما حديث أبي سعيد الخُدْريّ:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ہر بیماری کی ایک دوا ہے، پس جب بیماری کو اس کی دوا پہنچ جاتی ہے تو وہ اللہ عزوجل کے حکم سے شفاء یاب ہو جاتی ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى: شعيب.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "شعیب" بن گیا ہے۔
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
محمد بن أيوب: هو ابن الضُّريس صاحب "فضائل القرآن"، وأحمد بن عيسى: هو البصري. والحديث تقدم برقم (7622).
فنی نکتہ / علّت: محمد بن ایوب سے مراد ابن الضریس ہیں جو "فضائل القرآن" کے مصنف ہیں، اور احمد بن عیسیٰ سے مراد بصری ہیں۔
متابعات و شواہد: یہ حدیث پہلے نمبر (7622) پر گزر چکی ہے۔
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "شعیب" بن گیا ہے۔
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
محمد بن أيوب: هو ابن الضُّريس صاحب "فضائل القرآن"، وأحمد بن عيسى: هو البصري. والحديث تقدم برقم (7622).
فنی نکتہ / علّت: محمد بن ایوب سے مراد ابن الضریس ہیں جو "فضائل القرآن" کے مصنف ہیں، اور احمد بن عیسیٰ سے مراد بصری ہیں۔
متابعات و شواہد: یہ حدیث پہلے نمبر (7622) پر گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8423 سے ماخوذ ہے۔