حدیث نمبر: 8425
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا يحيى، عن شُعبة، عن قَتَادة، عن أبي المتوكِّل، عن أبي سعيد الخُدْري: أنَّ رجلًا جاء إلى رسول الله ﷺ فقال: يا رسول الله، إِنَّ أخي يَشتكي بطنَه، فقال: "اسْقِهِ العَسَل" قال: قد سقيتُه فلم يَزِدْهُ إِلَّا استطلاقًا، فقال رسول الله ﷺ في الثالثة أو الرابعة: "صَدَقَ اللهُ وكَذَبَ بَطنُ أخيك"، فذهب فَسَقَاه فبَرَأَ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8221 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے بھائی کے پیٹ میں تکلیف ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اسے شہد پلاؤ“، اس نے آکر عرض کی کہ میں نے اسے شہد پلایا ہے مگر اس سے اس کی دستوں کی بیماری مزید بڑھ گئی ہے، رسول اللہ ﷺ نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا: ”اللہ سچا ہے اور تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے“، چنانچہ وہ گیا اور اسے شہد پلایا تو وہ تندرست ہو گیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطب / حدیث: 8425
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8425] [ترقيم الشركة 8323] [ترقيم العلميه 8221]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. يحيى: هو ابن سعيد القطان، وأبو المتوكل: هو علي بن داود الناجي.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یحییٰ سے مراد ابن سعید القطان ہیں، اور ابو المتوکل سے مراد علی بن داؤد الناجی ہیں۔
وأخرجه النسائي (6672) و (7517) من طريق عمرو بن علي، عن يحيى القطان، بهذا الإسناد.
متابعات و شواہد: اسے نسائی (6672) اور (7517) نے عمرو بن علی کے واسطے سے یحییٰ القطان سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 17 / (11146) و 18 / (11871) و (11872)، والبخاري (5716)، ومسلم (2217)، والترمذي (2082)، والنسائي (7518) من طرق عن شعبة، به. فاستدراك الحاكم له ذهول منه.
متابعات و شواہد: اسے احمد 17/ (11146) و 18/ (11871) و (11872)، بخاری (5716)، مسلم (2217)، ترمذی (2082)، اور نسائی (7518) نے شعبہ کے مختلف طرق سے روایت کیا ہے۔
اہم نکتہ: لہٰذا حاکم کا اسے (مستدرک میں لاکر) استدراک کرنا ان کا ذہول (بھول) ہے۔
وأخرجه البخاري (5684)، ومسلم (2217) من طريق سعيد بن أبي عروبة، عن قتادة، به.
متابعات و شواہد: اسے بخاری (5684) اور مسلم (2217) نے سعید بن ابی عروبہ کے واسطے سے قتادہ سے روایت کیا ہے۔
وخالف شيبانُ النحوي عند أحمد 17/ (11147)، والنسائي (6673) فرواه عن قتادة عن أبي الصِّديق الناجي - وهو بكر بن عمرو - عن أبي سعيد الخدري، والمحفوظ أبو بكر الناجي، وليس أبا الصديق.
فنی نکتہ / علّت: شیبان النحوی نے احمد 17/ (11147) اور نسائی (6673) میں مخالفت کرتے ہوئے اسے قتادہ سے، انہوں نے ابو الصدیق الناجی (جو بکر بن عمرو ہیں) سے اور انہوں نے ابو سعید خدری سے روایت کیا ہے، اہم نکتہ: حالانکہ محفوظ "ابو بکر الناجی" ہے نہ کہ "ابو الصدیق"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8425 سے ماخوذ ہے۔