حدیث نمبر: 8401
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا بِشْر بن موسى الأَسَدي، حَدَّثَنَا الحسن بن موسى الأشْيَب، حَدَّثَنَا حماد بن سَلَمة، عن عمّار بن أبي عمّار (2)، عن ابن عبّاس قال: رأيتُ النَّبِيّ ﷺ فيما يرى النائمُ نِصفَ النهار، أشعثَ أغبرَ معه قارورةٌ فيها دم، فقلتُ: يا نبيَّ الله، ما هذا؟ قال: "هذا دمُ الحُسين وأصحابِه، لم أزَلْ أَلتقِطُه منذ اليومِ"، قال: فأُحصيَ ذلك اليومُ فوجدوه قُتل قبل ذلك بيوم (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8201 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے دوپہر کے وقت خواب میں نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور آپ گرد آلود ہیں، آپ ﷺ کے پاس ایک شیشی ہے جس میں خون ہے، میں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ حسین اور ان کے ساتھیوں کا خون ہے، میں آج کے دن سے مسلسل اسے جمع کر رہا ہوں“، راوی کہتے ہیں: اس دن کا حساب لگایا گیا تو پتہ چلا کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اس سے ایک دن پہلے شہید ہوئے تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب تعبير الرؤيا / حدیث: 8401
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8401] [ترقيم الشركة 8302] [ترقيم العلميه 8201]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في النسخ الخطية: عمار بن عمار، وهو خطأ.
نوٹ / توضیح: (2) قلمی نسخوں میں "عمار بن عمار" لکھا ہے، جو کہ غلط ہے۔
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 4 / (2165) و (2553) من طريقين عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (4/ 2165، 2553) نے حماد بن سلمہ سے دو طریقوں سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8401 سے ماخوذ ہے۔