المستدرك على الصحيحين
كتاب الحدود— اسلامی سزاؤں کے متعلق روایات
حِكَايَةُ امْرَأَةٍ سَرَقَتْ قَطِيفَةً فَقُطِعَتْ يَدُهَا باب: ایک عورت کا قصہ جس نے چادر چوری کی تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا
حدیث نمبر: 8345
فأخبرنا الحسن بن محمد الإسفرايني، حدَّثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدَّثنا علي بن المديني، قال: كان رَبيبا رسولِ الله ﷺ سَلَمةَ بن أبي سَلَمة وعمر بن أبي سَلَمة، وإنما عاذتِ المخزوميةُ التي سرقت بأحدِهما. قد اتَّفق الشيخان على إخراج حديث الزُّهْري عن عُرْوةَ عن عائشة: أنَّ المخزوميةَ إنما عاذَتْ بأسامةَ بن زيد (1)، وهو الصحيح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8145 - سكت عنه الذهبي في التلخيصحافظ طلحہ بابر
علی بن مدینی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پرورش یافتہ (ربیب) سلمہ بن ابوسلمہ اور عمر بن ابوسلمہ تھے، اور جس مخزومی عورت نے چوری کی تھی اس نے ان میں سے کسی ایک کے ذریعے پناہ مانگی تھی، شیخین نے زہری کی روایت جو عروہ کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، اس کے اخراج پر اتفاق کیا ہے کہ وہ مخزومی عورت دراصل اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس پناہ لینے گئی تھی، اور وہی صحیح ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) البخاري (3475)، ومسلم (1688).
حوالہ / مصدر: بخاری (3475)، اور مسلم (1688)۔
حوالہ / مصدر: بخاری (3475)، اور مسلم (1688)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8345 سے ماخوذ ہے۔