کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: ایک لونڈی کا قصہ جس پر اس کے مالک نے تہمت لگائی تھی
أخبرنا أبو النَّضر محمد بن محمد الفقيه وأبو إسحاق إبراهيم بن إسماعيل القارئ، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدارِمي، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث بن سعد، عن عمر بن عيسى القُرشي ثم الأَسَدي، عن ابن جريج، عن عطاء بن أبي رباح، عن ابن عبّاس قال: جاءت جاريةٌ إلى عمر بن الخطاب فقالت: إنَّ سيِّدي اتَّهَمني فأقعَدَني على النار حتى احترقَ فَرْجي. فقال عمر: هل رأَى ذلك عليكِ؟ قالت: لا، قال: فاعتَرفتِ له بشيء؟ قالت: لا، قال عمر: عليَّ به، فلما رأى عمرُ الرجلَ، قال: أتعذِّبُ بعذابِ الله؟! قال: يا أمير المؤمنين، اتَّهمتُها في نفسِها، قال: رأيتَ ذلك عليها؟ قال الرجل: لا، قال: فاعتَرفَتْ لك بذلك؟ قال: لا، قال: والذي نفسي بيده لو لم أسمَعْ رسولَ الله ﷺ يقول: "لا يُقادُ مملوكٌ مِن مالِكِه، ولا ولدٌ من والدِه"، لأقَدْتُها منكَ، فبرَّزَه وضربَه مئةَ سوطٍ، ثم قال: اذهبي فأنتِ حُرَّة لوجه الله، وأنتِ مولاةُ الله ورسوله (1). قال أبو صالح: قال الليث: هذا معمولٌ به.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدانِ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8101 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک لونڈی سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور عرض کی: میرے مالک نے مجھ پر تہمت لگائی اور مجھے آگ پر بٹھا دیا یہاں تک کہ میری شرمگاہ جل گئی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا کسی نے تمہارے ساتھ یہ ہوتے دیکھا؟ اس نے کہا: نہیں۔ پوچھا: کیا تم نے اس کے سامنے کسی جرم کا اعتراف کیا؟ اس نے کہا: نہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حکم دیا: اسے میرے پاس لاؤ۔ جب وہ شخص آیا تو آپ نے فرمایا: کیا تو اللہ کے عذاب جیسی سزا دیتا ہے؟! اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! مجھے اس کے کردار پر شک تھا۔ آپ نے پوچھا: کیا تم نے اسے کچھ کرتے دیکھا؟ اس نے کہا: نہیں۔ پوچھا: کیا اس نے اعتراف کیا؟ اس نے کہا: نہیں۔ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ: «لَا يُقَادُ مَمْلُوكٌ مِنْ مَالِكِهِ، وَلَا وَلَدٌ مِنْ وَالِدِهِ» ”غلام سے اس کے مالک کے بدلے اور اولاد سے اس کے والد کے بدلے قصاص نہیں لیا جائے گا“، تو میں تجھ سے اس لونڈی کا قصاص ضرور لیتا۔ پھر آپ نے اسے سب کے سامنے کھڑا کر کے سو کوڑے لگوائے اور لونڈی سے فرمایا: جا، تو اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے، اور تو اللہ اور اس کے رسول کی آزاد کردہ «مَوْلَاةُ» ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8300
درجۂ حدیث محدثین: حسن بطرقه وشواهده
تخریج حدیث «حسن بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف بمرّة من أجل عمر بن عيسى القرشي، وتقدم الكلام عليه عند مكرره السالف برقم (2892)» [ترقيم الرساله 8300] [ترقيم الشركة 8201] [ترقيم العلميه 8101]
أخبرَناه أبو جعفر بن دُحَيم، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا مالك بن إسماعيل، حدثنا أبو شِهاب عبدُ ربِّه بن نافع عن حمزة الجَزَري، عن عمرو بن دينار، عن ابن عمر، عن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن مَثَّل بعبدِه فهو حُرٌّ، وهو مولى اللهِ ورسولِه" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8102 - حمزة هو النصيبي يضع الحديث
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اپنے غلام کا کوئی عضو کاٹ کر اسے مثلہ «مَثَّلَ» کیا تو وہ آزاد ہے، اور وہ اللہ اور اس کے رسول کا آزاد کردہ «مَوْلَى» ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8301
درجۂ حدیث محدثین: إسناده تالف
تخریج حدیث «إسناده تالف، حمزة الجزري» [ترقيم الرساله 8301] [ترقيم الشركة 8202] [ترقيم العلميه 8102]
وأخبرنا أبو جعفر بن دُحَيم، حدثنا أحمد بن حازم، حدثنا عاصم بن يوسف اليَربُوعي، حدثنا عبثر بن القاسم، حدثنا حُصَين، عن هِلال بن يِسَاف، قال: كُنَّا نزولًا في دار سُوَيد بن مُقرِّن ومعنا شيخ حَديدٌ جاهلٌ، فلا أدري ما قالت وَليدةُ سُوَيد فلَطَمَها، فغضب من ذلك غضبًا ما غَضِبَ مثلَه قَطُّ، قال: عَجَزَ عليك إِلَّا حُرُّ وجهِها؟ لقد رأيتُني سابعَ سبعةٍ من بني مُقرِّن ما لنا إلَّا خادمٌ واحدٌ، فَلَطَمَها أصغرُنا، فأمرَنا رسولُ الله ﷺ أن نُعتِقَها (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8103 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
ہلال بن یساف سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم سیدنا سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ کے گھر ٹھہرے ہوئے تھے اور ہمارے ساتھ ایک تند خو اور جاہل بوڑھا شخص بھی تھا، مجھے علم نہیں کہ سیدنا سوید کی لونڈی نے کیا کہا تھا کہ اس شخص نے اسے ایک تھپڑ مار دیا، اس پر سیدنا سوید رضی اللہ عنہ کو اتنا شدید غصہ آیا کہ میں نے انہیں اس سے پہلے کبھی اتنا غضب ناک ہوتے نہیں دیکھا تھا، انہوں نے (اس بوڑھے سے) کہا: ”کیا تجھے اس کے چہرے کے سوا مارنے کی کوئی اور جگہ نہیں ملی تھی؟ میں نے وہ وقت دیکھا ہے جب ہم بنو مقرن کے سات بھائی تھے اور ہمارے پاس صرف ایک ہی خادمہ تھی، پھر ہمارے سب سے چھوٹے بھائی نے اسے تھپڑ مار دیا تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کر دیں۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8302
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8302] [ترقيم الشركة 8203] [ترقيم العلميه 8103]