المستدرك على الصحيحين
كتاب الحدود— اسلامی سزاؤں کے متعلق روایات
حَفَرُوا لِمَاعِزٍ إِلَى صَدْرِهِ عِنْدَ الرَّجْمِ باب: سیدنا ماعز رضی اللہ عنہ کے لیے رجم کے وقت سینے تک گڑھا کھودا گیا
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو نُعَيم، حدثنا سفيان، عن زيد بن أسلم عن يزيد بن نُعيم، عن أبيه، قال: جاء ماعزُ بن مالك إلى النبيِّ ﷺ فقال: يا رسول الله، إني زنيتُ فأَقِمْ فيَّ كتابَ الله، فأعرضَ عنه، حتى جاء أربعَ مّرات قال: "اذهبُوا به فارجُمُوه"، فلما مسَّتْه الحجارةُ جَزِعَ فاشتدَّ، قال: فخرج عبدُ الله بن أُنيس من باديته فرَمَاهِ بوَظِيفِ حمارٍ فَصَرَعَه، ورماه الناسُ حتى قتلوه، فذكر للنبي ﷺ فراره، فقال: "هلَّا تَركتُموه، لعلَّه يتوبُ ويتوبُ الله عليه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8082 - صحيحیزید بن نعیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ماعز بن مالک نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور عرض کی: اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے، مجھ پر اللہ کی کتاب (کی حد) قائم فرمائیے، آپ ﷺ نے ان سے اعراض کیا یہاں تک کہ وہ چار مرتبہ آئے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں لے جاؤ اور رجم کر دو“، جب انہیں پتھر لگے تو وہ گھبرا کر تیزی سے بھاگے، عبداللہ بن انیس اپنے صحرا سے نکلے اور گدھے کے پاؤں کی ہڈی انہیں ماری جس سے وہ گر پڑے، پھر لوگوں نے انہیں پتھر مار کر قتل کر دیا، جب نبی کریم ﷺ کو ان کے بھاگنے کا بتایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے انہیں چھوڑ کیوں نہ دیا، شاید وہ توبہ کر لیتے اور اللہ ان کی توبہ قبول فرما لیتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔