کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اللہ نے اپنی مخلوق میں سے سات قسم کے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أبو المثنَّى العَنْبري، حدثنا عبد الله بن مسلمة، حدثنا زُهير، عن عمرو بن أبي عمرو، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لَعَنَ الله مَن ذبحَ لغير الله، لَعَنَ الله مَن غيّر تُخومَ الأرض، لَعَنَ الله من كَمَّهَ الأعمى عن السبيل، لَعَنَ الله مَن سبّ والده، لَعَنَ الله مَن تولَّى غيرَ مَوالِيه لَعَنَ الله مَن عَمِلَ عملَ قومِ لوطٍ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8052 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی لعنت ہو اس پر جس نے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا، اللہ کی لعنت ہو اس پر جس نے زمین کی حدود (نشانات) کو تبدیل کیا، اللہ کی لعنت ہو اس پر جس نے کسی اندھے کو راستے سے بھٹکا دیا، اللہ کی لعنت ہو اس پر جس نے اپنے والد کو گالی دی، اللہ کی لعنت ہو اس پر جس نے اپنے مربی و محسن (آزاد کرنے والے) کے بجائے دوسروں سے وفاداری کا رشتہ جوڑا، اور اللہ کی لعنت ہو اس پر جس نے قومِ لوط والا عمل کیا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8250
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه كما سلف بيانه برقم (8245)» [ترقيم الرساله 8250] [ترقيم الشركة 8151] [ترقيم العلميه 8052]
قال: وحدثنا عبد الله بن مَسلَمة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو ابن أبي عمرو، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، عن النبيِّ ﷺ، وزاد فيه: "لَعَنَ اللهُ مَن وَقَعَ على بهيمةٍ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے (پچھلی روایت والے کلمات کے ساتھ) یہ اضافہ بھی فرمایا: ”اللہ کی لعنت ہو اس پر جس نے کسی جانور کے ساتھ بدفعلی کی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8251
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره غير لعن فاعلَيِ اللواط ومواقع البهيمة
تخریج حدیث «صحيح لغيره غير لعن فاعلَيِ اللواط ومواقع البهيمة، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه كما سلف بيانه برقم (8245)» [ترقيم الرساله 8251] [ترقيم الشركة 8152]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عُتْبة أحمد بن الفَرَج، حدثنا ابن أبي فُدَيك، حدثنا هارون بن هارون التَّيمي، عن الأعرج، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "لَعَنَ الله سبعةً من خلقِه"، فرَدَّ (2) رسول الله ﷺ على كلِّ واحدٍ ثلاثَ مرات، ثم قال: "ملعونٌ ملعونٌ ملعونٌ مَنْ عَمِلَ عملَ قومِ لوطٍ، ملعونٌ مَن جمعَ بين المرأةِ وابنتِها، ملعونٌ مَن سَبَّ شيئًا من والديه، ملعونٌ من أتى شيئًا من البهائم، ملعونٌ من غيَّرَ حدودَ الأرض، ملعونٌ مَن ذَبَحَ لغير الله، ملعونٌ مَن تولَّى غيرَ موالِيه" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8053 - هارون بن هارون التيمي ضعفوه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے سات قسم کے لوگوں پر لعنت فرمائی ہے“، رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے ہر ایک پر تین تین مرتبہ (لعنت) دہرائی، پھر فرمایا: ”ملعون ہے، ملعون ہے، ملعون ہے وہ شخص جس نے قومِ لوط والا عمل کیا، ملعون ہے وہ شخص جس نے (نکاح میں) عورت اور اس کی بیٹی کو جمع کیا، ملعون ہے وہ شخص جس نے اپنے والدین میں سے کسی کو گالی دی، ملعون ہے وہ شخص جس نے کسی جانور کے ساتھ بدکاری کی، ملعون ہے وہ شخص جس نے زمین کی حدود بدل ڈالیں، ملعون ہے وہ شخص جس نے غیر اللہ کے لیے ذبح کیا، اور ملعون ہے وہ شخص جس نے اپنے آقاؤں (محسنوں) کے بجائے کسی اور کو اپنا سرپرست بنایا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8252
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، هارون بن هارون متفق على ضعفه، وبه أعلَّه الذهبي في "التلخيص"، وأحمد بن الفرج ليس بذاك القوي، لكنه توبع» [ترقيم الرساله 8252] [ترقيم الشركة 8153] [ترقيم العلميه 8053]