حدیث نمبر: 8251
قال: وحدثنا عبد الله بن مَسلَمة، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن عمرو ابن أبي عمرو، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، عن النبيِّ ﷺ، وزاد فيه: "لَعَنَ اللهُ مَن وَقَعَ على بهيمةٍ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے (پچھلی روایت والے کلمات کے ساتھ) یہ اضافہ بھی فرمایا: ”اللہ کی لعنت ہو اس پر جس نے کسی جانور کے ساتھ بدفعلی کی۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8251
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره غير لعن فاعلَيِ اللواط ومواقع البهيمة
تخریج حدیث «صحيح لغيره غير لعن فاعلَيِ اللواط ومواقع البهيمة، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه كما سلف بيانه برقم (8245)» [ترقيم الرساله 8251] [ترقيم الشركة 8152]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره غير لعن فاعلَيِ اللواط ومواقع البهيمة، وهذا إسناد ضعيف لاضطرابه كما سلف بيانه برقم (8245).
درجۂ حدیث: لواطت کرنے والے اور جانور سے بدفعلی کرنے والے پر لعنت کے علاوہ باقی حدیث "صحیح لغیرہ" ہے۔
فنی نکتہ: یہ سند ضعیف ہے کیونکہ اس میں اضطراب ہے جیسا کہ نمبر (8245) پر بیان ہو چکا ہے۔
وأخرجه مقطعًا النسائي (7297) و (7299) عن قتيبة بن سعيد، عن عبد العزيز الدراوردي، بهذا الإسناد.
تخریج: اسے نسائی (7297، 7299) نے ٹکڑوں میں (مقطعاً) قتیبہ بن سعید سے، انہوں نے عبد العزیز الدراوردی سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه تامًّا أحمد 3/ (1875) و 5 / (2913) و (2914) و (2915) من طرق عن عمرو بن أبي عمرو، به.
تخریج: اسے مکمل طور پر احمد (3/ 1875 اور 5/ 2913، 2914، 2915) نے عمرو بن ابی عمرو کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8251 سے ماخوذ ہے۔