کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: آدمی اپنے دین کے معاملے میں اس وقت تک وسعت میں رہتا ہے جب تک وہ ناحق خون نہ بہائے
أخبرنا عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلَّاب بهَمَذان، حدثنا أبو حاتم الرازي، أخبرنا [محمد بن يحيى الذُّهْلي، حدثنا] (1) أبو غسّان محمد بن يحيى بن علي بن عبد الحميد الكِنَاني، حدثنا عبد العزيز بن محمد الدَّرَاوَرْدي، عن عبيد الله بن عمر، عن نافع عن ابن عمر أنَّ رسول الله ﷺ قال: "لا يزالُ المرء في فُسْحةٍ من دِينِه ما لم يُصب دمًا حرامًا" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يخرجاه، وإنما يُعَدُّ في أفراد محمد بن يحيى الذُّهلي (1) عن محمد بن يحيى الكِنَاني. وله إسناد آخر صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8029 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انسان اپنے دین کے معاملے میں اس وقت تک وسعت و گنجائش میں رہتا ہے جب تک وہ کسی کا ناحق خون نہیں بہاتا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسے محمد بن یحییٰ الذہلی کی محمد بن یحییٰ الکنانی سے روایت کردہ انفرادی روایات میں شمار کیا جاتا ہے، جبکہ اس کی ایک اور صحیح سند بھی موجود ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8227
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد جيد من أجل عبد العزيز الدراوردي» [ترقيم الرساله 8227] [ترقيم الشركة 8128] [ترقيم العلميه 8029]
حدَّثَناه أبو العباس عبد الله بن الحسين القاضي، حدثنا الحارث بن أبي أُسامة، حدثنا أبو النَّضر، حدثنا إسحاق بن سعيد بن عمرو بن سعيد بن العاص، عن أبيه، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "لن يزالَ المرءُ فِي فُسحةٍ من دِينِه ما لم يُصِبْ دمًا حرامًا" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8030 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انسان اپنے دین کے معاملے میں ہمیشہ وسعت میں رہے گا جب تک کہ وہ حرام خون (ناحق قتل) کا ارتکاب نہیں کرتا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8228
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8228] [ترقيم الشركة 8129] [ترقيم العلميه 8030]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتَيبة القاضي [حدثنا صفوان بن عيسى] (3) حدثنا ثَوْر بن يزيد، عن أبي عَوْن، عن أبي إدريس الخَوْلاني، قال: سمعتُ معاوية بن أبي سفيان، وكان قليلَ الحديث عن رسول الله ﷺ، فسمعتُه يقول: قال رسول الله ﷺ: "كلُّ ذَنْبٍ عسى الله أن يَغْفِرَه إِلَّا الرجل يموتُ كافرًا، أو الرجلُ يقتُلُ مؤمنًا متعمدًا" (4). صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8031 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ رسول اللہ ﷺ سے بہت کم احادیث بیان کرتے تھے، میں نے انہیں فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر گناہ کو معاف فرما دے گا سوائے اس شخص کے جو کفر کی حالت میں مرا ہو، یا اس شخص کے جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8229
درجۂ حدیث محدثین: صحيح بما بعده
تخریج حدیث «صحيح بما بعده، وهذا إسناد حسن من أجل أبي عون» [ترقيم الرساله 8229] [ترقيم الشركة 8130] [ترقيم العلميه 8031]
أخبرني عُبيد الله (1) بن أحمد بن البَلْخي التاجر ببغداد، حدثنا أبو إسماعيل محمد بن إسماعيل (2)، حدثنا محمد بن المبارك الدَّمشقي، حدثنا صَدَقة، حدثنا خالد بن دِهْقان، حدثنا ابن أبي زكريا، قال: سمعتُ أمَّ الدرداء تقول: سمعتُ أبا الدَّرداء يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "كلُّ ذنبٍ عسى الله أَن يَغْفِرَه إِلَّا الرجلَ يموتُ مُشركًا، أو يقتل مؤمنًا متعمدًا" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8032 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر گناہ کی مغفرت فرما دے گا سوائے اس شخص کے جو شرک کی حالت میں مرا ہو، یا جس نے کسی مومن کو قصداً قتل کیا ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الحدود / حدیث: 8230
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8230] [ترقيم الشركة 8131] [ترقيم العلميه 8032]