المستدرك على الصحيحين
كتاب الفرائض— وراثت کے متعلق روایات
قَضَاءُ أَبِي بَكْرٍ فِي الْجَدَّةِ باب: دادی (یا نانی) کی میراث کے بارے میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا فیصلہ
أخبرنا أبو يحيى السَّمَرقندي، حدثنا محمد بن نصر الإمام، حدثنا إسحاق، أخبرنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن الزُّهْري، عن أبي سَلَمة قال: جاء ابنَ عباس رجلٌ فقال: رجلٌ تُوفِّيَ وترك بنتَه وأختَه لأبيه وأُمَّه، قال: لابنتِه النِّصفَ وليس لأختِه شيءٌ، قال الرجلُ: فإنَّ عمر قَضَى بغير ذلك، جعلَ للابنة النِّصفَ، وللأخت النَّصفَ! قال ابن عباس: أأنتم أعلمُ أم الله؟ فلم أدْرِ (1) ما وجهُ هذا حتى لَقِيتُ ابنَ طاووس، فذكرتُ له حديثَ الزُّهْري، فقال: أخبرني أبي، أنه سمع ابنَ عباس يقول: قال الله ﷿: ﴿إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ﴾ [النساء: 176]، قال ابن عباس: فقلتُم أنتم: لها النِّصفُ وإنْ كان له ولدٌ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7979 - على شرط البخاري ومسلمابوسلمہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور پوچھا: ایک شخص فوت ہو گیا اور اس نے اپنی بیٹی اور اپنی سگی بہن چھوڑی ہے (تو وراثت کا کیا حکم ہے)؟ انہوں نے فرمایا: ”بیٹی کے لیے نصف ہے اور بہن کے لیے کچھ نہیں ہے“، اس شخص نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تو اس کے برعکس فیصلہ فرمایا تھا کہ بیٹی کے لیے نصف اور بہن کے لیے بھی نصف ہے! سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”کیا تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ؟“ (راوی کہتے ہیں) مجھے اس کی وجہ سمجھ نہ آئی یہاں تک کہ میں ابن طاؤس سے ملا، میں نے ان سے زہری کی یہ حدیث ذکر کی تو انہوں نے بتایا کہ میرے والد نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ فرماتے سنا: اللہ عزوجل کا فرمان ہے: ﴿إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ﴾ ”اگر کوئی مرد فوت ہو جائے جس کی کوئی اولاد نہ ہو اور اس کی ایک بہن ہو تو اس کے لیے اس کے چھوڑے ہوئے مال کا نصف ہے“ [سورة النساء: 176]، ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مطلب یہ تھا کہ تم لوگوں نے بہن کے لیے اس صورت میں بھی نصف مقرر کر دیا ہے جب میت کی اولاد (بیٹی) موجود ہو۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: (روایت میں) "فلم أدر" (مجھے نہیں معلوم) کہنے والے راوی معمر ہیں۔
(2) إسناده صحيح. إسحاق: هو ابن راهويه. وسلف برقم (3248).
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اسحاق سے مراد ابن راہویہ ہیں۔ اور یہ پیچھے نمبر (3248) پر گزر چکا ہے۔
وانظر ما سلف برقم (8171)، وما سيأتي برقم (8211).
نوٹ / توضیح: جو پیچھے نمبر (8171) پر گزرا اسے دیکھیں، اور جو آگے نمبر (8211) پر آئے گا اسے بھی ملاحظہ کریں۔