کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: نبی کریم ﷺ نے سادہ (کھردرا) کھانا کھایا اور سادہ لباس پہنا
أخبرنا مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا محمد بن إسماعيل السُّلَمي، حدثنا حَيْوة بن شُريح الحضرمي، حدثنا بقيّة بن الوليد، حدثني يوسف بن أبي كَثير [عن نُوح بن ذَكْوان] (1) عن الحسن عن أنس: أنَّ النبيَّ ﷺ أَكَلَ خَشِنًا، وَلَبِسَ خَشِنًا، لَبِسَ الصُّوف، واحتَذَى المخصوف. قيل للحسن: ما الخَشِنُ؟ قال: غليظُ الشَّعير، ما كان النبيُّ ﷺ يُسِيغُه إِلَّا بِجَرْعةٍ من ماء (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7925 - لم يصح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے موٹا اور کھردرا کھانا تناول فرمایا اور کھردرا لباس پہنا، آپ ﷺ نے اونی لباس زیبِ تن فرمایا اور پیوند لگی ہوئی جوتی پہنی۔ امام حسن بصری رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ”کھردرا کھانا“ کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”جو کا موٹا آٹا، جسے نبی کریم ﷺ پانی کے گھونٹ کے سہارے کے بغیر (حلق سے) نیچے نہیں اتار سکتے تھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقاق / حدیث: 8123
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف بمرّة
تخریج حدیث «إسناده ضعيف بمرّة، بقية بن الوليد ضعيف، وشيخه يوسف بن أبي كثير مجهول لا يعرف، ونوح بن ذكوان ضعيف منكر الحديث» [ترقيم الرساله 8123] [ترقيم الشركة 8024] [ترقيم العلميه 7925]
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا حفص بن عمر الحَوْضي، حدثنا سلَّام بن أبي مُطِيع، حدثنا معاوية بن قُرَّة، عن مَعقِل بن يَسار قال: قال رسول الله ﷺ: "يقول ربُّكم ﵎: يا ابنَ آدم، تَفرَّغْ لعبادتي أَملأْ قلبك غِنًى، وأَملأ يديك رزقًا، يا ابنَ آدم، لا تَباعَدْ مِنِّي فأَملأَ قلبَك فقرًا، وأَملأَ يديك شُغلًا" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7926 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا رب عزوجل فرماتا ہے: اے ابنِ آدم! تو میری عبادت کے لیے یکسو ہو جا، میں تیرے دل کو غنا (بے نیازی) سے بھر دوں گا اور تیرے ہاتھوں کو رزق سے لبریز کر دوں گا، اے ابنِ آدم! مجھ سے دوری اختیار نہ کر ورنہ میں تیرے دل کو فقر (محتاجی) سے بھر دوں گا اور تیرے ہاتھوں کو دنیاوی مصروفیات میں الجھا دوں گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقاق / حدیث: 8124
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًا، من أجل سلام» [ترقيم الرساله 8124] [ترقيم الشركة 8025] [ترقيم العلميه 7926]
أخبرنا عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزَاعي بمكة حرسها الله تعالى، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثنا موسى بن عُلَي بن رَبَاح، قال: سمعتُ أبي يقول: سمعت عمرو بن العاص يقول، وهو يخطُبُ الناسَ بمصر: ما أبعدَ هَدْيَكم من هَدْي نبيِّكم-ﷺ، أمّا هو فكان أزهدَ الناسِ في الدنيا، وأمّا أنتم فأرغَبُ الناسِ فيها (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7927 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مصر میں لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”تمہاری روش تمہارے نبی ﷺ کی روش سے کتنی دور ہے، آپ ﷺ تو دنیا میں سب سے زیادہ زہد اختیار کرنے والے تھے جبکہ تم لوگ اس میں سب سے زیادہ رغبت رکھنے والے ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقاق / حدیث: 8125
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8125] [ترقيم الشركة 8026] [ترقيم العلميه 7927]