حدیث نمبر: 8125
أخبرنا عبد الله بن محمد بن إسحاق الخُزَاعي بمكة حرسها الله تعالى، حدثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثنا موسى بن عُلَي بن رَبَاح، قال: سمعتُ أبي يقول: سمعت عمرو بن العاص يقول، وهو يخطُبُ الناسَ بمصر: ما أبعدَ هَدْيَكم من هَدْي نبيِّكم-ﷺ، أمّا هو فكان أزهدَ الناسِ في الدنيا، وأمّا أنتم فأرغَبُ الناسِ فيها (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7927 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مصر میں لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: ”تمہاری روش تمہارے نبی ﷺ کی روش سے کتنی دور ہے، آپ ﷺ تو دنیا میں سب سے زیادہ زہد اختیار کرنے والے تھے جبکہ تم لوگ اس میں سب سے زیادہ رغبت رکھنے والے ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الرقاق / حدیث: 8125
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 8125] [ترقيم الشركة 8026] [ترقيم العلميه 7927]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 29/ (17773) عن عبد الله بن يزيد المقرئ بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (29/ 17773) نے عبد اللہ بن یزید المقرئ سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (17809) عن عبد الرحمن بن مهدي، عن موسى بن عُلي، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (17809) نے عبد الرحمٰن بن مہدی، از موسیٰ بن عُلی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد (17815)، وابن حبان (6379) من طريق أبي هانئ حميد بن هانئ الخولاني، عن عُلي بن رباح، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (17815) اور ابن حبان (6379) نے ابو ہانی حمید بن ہانی الخولانی، از عُلی بن رباح کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وسلف بأطول منه برقم (8079).
حوالہ / مصدر: یہ اس سے زیادہ طویل متن کے ساتھ پیچھے نمبر (8079) پر گزر چکا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 8125 سے ماخوذ ہے۔