حدثنا علي بن بُنْدار الزاهد، حدثني أبو بكر محمد بن سليمان بن يوسف السَّلِيطي، حدثنا علي بن سعيد النَّسَوي، حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث، حدثنا هاشم بن سعيد الكوفي، حدثنا زيد بن عبد الله الخَثعَمي، عن أسماء بنت عُميس الخَثْعمية قالت: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "بئسَ العبدُ عبدٌ تخيَّلَ واختال، ونَسِيَ الكبيرَ المُتعال، بئسَ العبدُ عبدٌ سَهَا ولَهَا، ونَسِيَ المَبدأَ والمُنتهى، بئسَ العبدُ عبدٌ بَغَى وعَتَا، ونَسِيَ المقابرَ والبِلَا، بئسَ العبدُ عبدٌ يَخيِلُ الدنيا بالدِّين، بئسَ العبدُ عبدٌ يَختِلُ الدِّينَ بالشُّبُهات، بئس العبدُ عبدٌ يَصُدُّه الرُّعبُ عن الحقّ، بئسَ العبدُ عبدٌ طَمَعُ يقودُه، بئس العبدُ عبدٌ هوًى يُضِلُّه" (1).
هذا حديث (2) ليس في إسناده أحدٌ منسوبٌ إلى نوع من الجَرْح، وإذا كانوا هكذا فإنه صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7885 - إسناده مظلم
هذا حديث (2) ليس في إسناده أحدٌ منسوبٌ إلى نوع من الجَرْح، وإذا كانوا هكذا فإنه صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7885 - إسناده مظلم
حافظ طلحہ بابر
سیدہ اسماء بنت عمیس خثعمیہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”برا ہے وہ بندہ جو محض خیالات میں کھویا رہے اور تکبر کرے، اور اس بڑائی والے کو بھول جائے جو سب سے بلند و بالا ہے، برا ہے وہ بندہ جو غافل رہے اور لہو و لعب میں مگن ہو جائے، اور اپنی ابتدا اور انتہا کو بھول جائے، برا ہے وہ بندہ جو ظلم و سرکشی کرے، اور قبروں اور (بدن کی) بوسیدگی کو بھول جائے، برا ہے وہ بندہ جو دین کے بدلے دنیا کا سودا کرے، برا ہے وہ بندہ جو شبہات کے ذریعے دین کو فریب دے، برا ہے وہ بندہ جسے (ناحق) رعب و خوف حق سے روک دے، برا ہے وہ بندہ جس کی باگ دوڑ اس کی حرص کے ہاتھ میں ہو، اور برا ہے وہ بندہ جسے اس کی خواہشِ نفس گمراہ کر دے۔“
اس حدیث کی سند میں کوئی بھی راوی جرح کے ساتھ منسوب نہیں ہے، اور جب راوی ایسے ہوں تو یہ حدیث صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند میں کوئی بھی راوی جرح کے ساتھ منسوب نہیں ہے، اور جب راوی ایسے ہوں تو یہ حدیث صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد وعلي بن حَمْشَاذَ العَدْل، قالا: حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثني سليمان ابن بلال، عن يونس، عن ابن شِهاب، عن أبي حُميد (1) أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ: "لَتُنتَقُنَّ كما يُنتَقَى التمرُ من الجَفْنة، فَلَيَذهبنَّ خِيارُكم، ولَيَبقيَنَّ شراركم، فموتوا إن استطعتُم" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، وأبو حميد: هو الطَّاعِني (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7886 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، وأبو حميد: هو الطَّاعِني (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7886 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں (فتنوں کے ذریعے) اسی طرح منتخب کر کے الگ کیا جائے گا جیسے پیالے میں سے اچھی کھجوریں الگ کر لی جاتی ہیں، پس تم میں سے بہترین لوگ رخصت ہو جائیں گے اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے، لہٰذا (اگر فتنوں سے بچنا چاہتے ہو تو) اگر موت ممکن ہو تو مر جاؤ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ابو حمید سے مراد طاعنی ہیں۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور ابو حمید سے مراد طاعنی ہیں۔