کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اللہ سے اس حال میں ملو کہ تم فقیر (دنیا سے بے رغبت) ہو، نہ کہ غنی (دنیا دار)
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، حدثنا أبو عبد الله الحسين بن موسى بن خلف الرَّسْعَني، حدثنا أبو فَرْوة يزيد بن محمد الرُّهَاوي، حدثنا أبي، عن أبيه، عن عطاء بن أبي رَبَاح، عن أبي سعيد الخُدْري، عن بلال قال: قال رسول الله ﷺ: "يا بلالُ القَ الله فقيرًا ولا تَلْقَه غنيًّا" قال: قلت: وكيف لي بذلك يا رسولَ الله؟ قال: "إذا رُزِقتَ فلا تَخْبَأَ، وإذا سُئِلتَ فلا تَمنَع" قال: قلت: وكيف لي بذلك يا رسولَ الله؟ قال: "هو ذاكَ وإلَّا فالنارُ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7887 - واه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7887 - واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے بلال! اللہ سے اس حال میں ملنا کہ تم فقیر ہو اور اس حال میں نہ ملنا کہ تم غنی (مالدار) ہو۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں یہ کیسے کر سکتا ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تمہیں رزق دیا جائے تو اسے (ذخیرہ کر کے) نہ چھپاؤ، اور جب تم سے سوال کیا جائے تو (دینے سے) منع نہ کرو۔“ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ مجھ سے کیسے ہو پائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہی راستہ ہے، ورنہ پھر آگ ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني دَعْلَج بن أحمد السِّجْزي ببغداد، حدثنا أحمد بن علي الآبَّار، حدثنا عبد الله بن أبي بكر المُقدَّمي، حدثنا جعفر بن سليمان، عن ثابت، عن أنس: أنَّ النبيَّ ﷺ دخلَ مكةَ وذَقَنُهُ على رَحْلِهِ مُتخشِّعًا (1)
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7888 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7888 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ (فتح کے موقع پر) مکہ میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ کی ٹھوڑی مبارک نہایت عاجزی کی وجہ سے آپ ﷺ کی سواری کے کجاوے سے لگی ہوئی تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا جعفر بن محمد الخُلْدي، حدثنا الحسن بن علي القطَّان، حدثنا إسماعيل بن عيسى العطَّار، حدثنا إسحاق بن بشر، حدثنا سفيان الثَّوري، عن الأعمش، عن شَقِيق بن سَلَمة عن حُذيفة، عن النبيِّ ﷺ قال: "مَن أصبحَ والدُّنيا أكبرُ، همِّه، فليس من الله في شيءٍ ومَن لم يتَّقِ الله فليس من الله في شيءٍ، ومن لم يَهتمَّ للمسلمين عامّةً فليس منهم" (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7889 - أحسب الخبر موضوعا
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7889 - أحسب الخبر موضوعا
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے اس حال میں صبح کی کہ دنیا اس کا سب سے بڑا غم ہو، تو اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں، اور جو اللہ سے نہ ڈرے اس کا بھی اللہ سے کوئی تعلق نہیں، اور جو مسلمانوں کے عمومی معاملات کی فکر نہ کرے وہ ان میں سے نہیں ہے۔“
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا العبّاس بن محمد الدُّوري، حدثنا شَبَابة بن سَوَّار، حدثنا شُعبة، عن أبي إسرائيل، عن جَعْدة الجَشْمي قال: رأيتُ النبيَّ ﷺ يُشيرُ بيده إلى بطن رجلِ سَمينٍ ويقول: "لو كان هذا في غيرِ هذا كان خيرًا لك" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7890 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7890 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جعدہ جشمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ اپنے دستِ مبارک سے ایک فربہ (موٹے) شخص کے پیٹ کی طرف اشارہ کر رہے تھے اور فرما رہے تھے: ”اگر یہ (چربی اور گوشت) اس کے بجائے کسی اور جگہ (یعنی اللہ کی راہ میں مشقت میں) ہوتی تو تمہارے لیے بہتر ہوتا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔