حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن بِشر بن مَطَر، حدثنا محمد بن جعفر الوَرْكاني، حدثني عَدِيّ بن الفضل، عن عبد الرحمن بن عبد الله المسعودي، عن القاسم (1) بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن ابن مسعود قال: تَلَا رسولُ الله ﷺ ﴿فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ﴾ [الأنعام: 125] فقال: رسول الله ﷺ: "إنَّ النُّورَ إذا دخل الصدرَ انفَسَحَ" فقيل: يا رسولَ الله، هل لذلك من عَلَمٍ يُعرَفُ؟ قال: "نعم، التَّجافي عن دار الغُرور، والإنابةُ إلى دار الخُلود، والاستعدادُ للموت قبلَ نُزولِه" (2)
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7863 - عدي بن الفضل ساقط
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7863 - عدي بن الفضل ساقط
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی: ﴿فَمَنْ يُرِدِ اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُ يَشْرَحْ صَدْرَهُ لِلْإِسْلَامِ﴾ ”پس اللہ جس کو ہدایت دینے کا ارادہ فرماتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔“ [سورة الأنعام: 125] پھر رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بلاشبہ نور جب سینے میں داخل ہوتا ہے تو وہ کشادہ ہو جاتا ہے۔“ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! کیا اس کی کوئی نشانی ہے جس سے اسے پہچانا جا سکے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، دھوکے کے گھر (دنیا) سے کنارہ کشی اختیار کرنا، ہمیشہ رہنے والے گھر (آخرت) کی طرف رجوع کرنا، اور موت کے آنے سے پہلے اس کے لیے تیاری کرنا۔“
أخبرني إبراهيم بن عِصْمة بن إبراهيم العَدْل، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، عن العوَّام بن جُوَيرية، عن الحسن، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ: "أربعٌ لا يُصَبْنَ إِلَّا بِعَجَب: الصَّمتُ، وهو أولُ العِبادة، والتواضعُ، وذكر الله، وقِلَّةُ الشيء" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”چار خصلتیں ایسی ہیں جنہیں صرف حیرت انگیز (توفیق) سے پایا جاتا ہے: خاموشی، جو کہ عبادت کی ابتدا ہے، عاجزی و انکساری، اللہ کا ذکر، اور (دنیاوی) مال و متاع کی قلت۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا عبد الملك بن محمد الرَّقاشي، حدثنا أبو رَبِيعة فَهْد بن عوف، حدثنا عمر بن الفضل الأزدي، عن رَقَبة بن مَسْقَلة، عن علي بن الأقمَر، عن أبي جُحَيفة قال: أكلتُ لحمًا كثيرًا وثَريدًا، ثم جئتُ فقعدتُ حيالَ النبي ﷺ، فجعلتُ أتجشَّأُ، فقال: "أَقصِرْ من جُشَائِكَ، فَإِنَّ أَكثرَ الناس شِبَعًا في الدنيا أكثرُهم جوعًا في الآخرة (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے خوب گوشت اور ثرید کھایا، پھر میں آکر نبی کریم ﷺ کے سامنے بیٹھ گیا اور مجھے ڈکاریں آنے لگیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی ڈکاروں کو کم کرو، کیونکہ دنیا میں سب سے زیادہ پیٹ بھر کر کھانے والے لوگ آخرت میں سب سے زیادہ طویل وقت تک بھوکے ہوں گے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن عَمْرَوَيهِ البَزّاز ببغداد، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثنا الحسن بن موسى الأشيّب، حدثنا عُقْبة بن عبد الله الأصمّ، حدثنا عبد الله بن بُرَيدة، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا قال الرجلُ للمنافق: يا سيِّدُ، فقد أغضَبَ ربَّه ﵎" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7865 - عقبة بن الأصم ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7865 - عقبة بن الأصم ضعيف
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب کوئی شخص کسی منافق کو ”اے سردار“ (یا جناب) کہہ کر مخاطب کرتا ہے، تو بلاشبہ وہ اپنے رب عزوجل کو غضبناک کرتا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔