کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: ابن آدم کا دل چڑیا کی طرح ہے جو مسلسل بدلتا (الٹتا پلٹتا) رہتا ہے
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حدثنا أبو بكر بن أبي الدُّنيا، حدثني سُوَيد بن سعيد، حدثني بَقيَّة بن الوليد، عن بَحِير بن سعد، عن خالد بن مَعْدان، عن أبي عُبيدة بن الجرَّاح، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إِنَّ قلب ابن آدم مثلُ العُصفور، يتقلَّبُ في اليوم سبعَ مرّات" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7850 - فيه انقطاع
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7850 - فيه انقطاع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ابنِ آدم کا دل ایک چڑیا کی مانند ہے جو دن میں سات مرتبہ الٹ پلٹ ہوتا رہتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني عبد الله بن الحسين القاضي بمَرْو، حدثنا الحارث بن أبي أسامة، حدثنا أبو النَّضر هاشم بن القاسم، حدثنا أبو عَقيل الثَّقفي، عن بُرْد (1) بن سِنَان، حدثنا بُكَير بن فَيروز يقول: سمعتُ أبا هريرة يقول: قال رسول الله ﷺ: "مَن خَافَ أدلجَ، ومن أدلَجَ بَلَغَ المنزل، ألا إِنَّ سِلْعَةَ الله غاليةٌ، ألا إِنَّ سِلْعَةَ الله غاليةٌ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7851 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7851 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو (دشمن کے حملے سے) ڈرتا ہے وہ رات کے ابتدائی حصے میں ہی (سفر پر) نکل پڑتا ہے، اور جو وقت پر نکل پڑتا ہے وہ اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ جاتا ہے، آگاہ رہو! اللہ کا سودا بہت مہنگا ہے، خبردار! اللہ کا سودا بہت قیمتی ہے (اور وہ جنت ہے)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا علي بن الحسن الهِلَالي حدثنا عبد الله بن الوليد العَدَني، حدثنا سفيان، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن الطُّفَيل بن أُبي (3) بن كعب، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن خَافَ أَدلَجَ، ومن أدلَجَ بلغَ المنزل، ألا إِنَّ سِلعةَ الله غاليةٌ، ألا إِنَّ سِلعةَ الله غاليةٌ؛ الجنةُ. جاءتِ الراجفةُ تَتْبَعُها الرادِفةُ، جاء الموتُ بما فيه" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7852 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7852 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو خوف کھاتا ہے وہ رات کے پہلے پہر ہی کوچ کر جاتا ہے، اور جو کوچ کر جائے وہ منزل کو پا لیتا ہے، آگاہ رہو! اللہ کا سودا بہت مہنگا ہے، یاد رکھو! اللہ کا سودا بہت قیمتی ہے اور وہ جنت ہے؛ لرزا دینے والی (قیامت) آگئی جس کے پیچھے ایک اور لرزہ طاری کرنے والی ہے، موت اپنی تمام تر سختیوں کے ساتھ آپہنچی ہے۔“