أخبرنا أبو العباس القاسم بن القاسم السَّيَّاري بمَرُو، حَدَّثَنَا عبد العزيز بن حاتم، حَدَّثَنَا علي بن الحسن بن شَقيق، حَدَّثَنَا أبو تُمَيلة، حدثني أبو المُنِيب عُبيد الله (2) بن عبد الله العَتَكي، حدثني عبدُ الله بن بُرَيدة، عن أبيه قال: نَهَى رسولُ الله ﷺ عن مَجلِسَينِ ومَلْبَسَينِ، فأما المَجلِسانِ: فجلوسٌ بين الظلِّ والشمس، والمجلِسُ الآخرُ أَن تَحتبِيَ في ثوبٍ يُفضِي إلى عورتِك. والمَلْبسان: أحدُهما أن تصلِّيَ في ثوب ولا تَوشَّحَ به، والآخرُ أَن تُصلِّيَ فِي سَراوِيلَ ليس عليك رِداءٌ (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو طرح بیٹھنے اور دو طرح کے لباس سے منع فرمایا ہے، جہاں تک دو طرح بیٹھنے کا تعلق ہے: (ایک) سائے اور دھوپ کے درمیان بیٹھنا، اور دوسرا اس طرح «تَحْتَبِيَ» (گھٹنوں کو پیٹ سے لگا کر ہاتھوں یا کپڑے سے باندھ کر) بیٹھنا کہ ستر کھلنے کا خدشہ ہو، اور دو طرح کے لباس یہ ہیں: ایک یہ کہ تم ایک کپڑے میں نماز پڑھو اور اس کا «تَوَشُّحَ» (ایک سرے کو دوسرے کندھے پر ڈالنا) نہ کرو، اور دوسرا یہ کہ تم صرف شلوار میں نماز پڑھو جبکہ تمہارے اوپر کوئی چادر (رداء) نہ ہو۔
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدُوري، حَدَّثَنَا عثمان بن عمر، حَدَّثَنَا إسرائيل، عن مَيْسَرةَ بن حَبيب، عن المِنْهال بن عمرو، عن عائشة بنت طلحة، عن عائشة أمِّ المؤمنين قالت ما رأيتُ أحدًا أشبهَ سَمْتًا ودَلًّا وهَديًا برسولِ الله ﷺ في قيامِها وقعودِها من فاطمة بنتِ رسول الله ﷺ. قالت: وكانت إذا دخلَتْ على النَّبِيِّ ﷺ، قامَ إليها فقبَّلها وأجلسَها في مَجلِسِه، وكان النبيُّ ﷺ إذا دخلَ عليها قامَتْ من مَجلِسِها، فقبَّلَتْه وأجلسَتْه في مَجْلِسِها، فلمَّا مَرِضَ النبيُّ ﷺ دخلَتْ فاطمةُ فأكبَّتْ عليه فقبَّلَته، ثم رفعت رأسَها [فبكَتْ، ثم أكبَّتْ عليه ورفعت رأسَها] (1) فضَحِكَت. فقلتُ: إني كنتُ أظنُّ أنَّ هذه من أعقلِ نسائِنا، فإذا هي من النِّساء، فلمَّا توفي النَّبِيّ ﷺ قلتُ لها: رأيتُكِ حين أكببتِ على النَّبِيِّ فرفعتِ رأسَك فبكيتِ، ثم أكببتِ عليه فرفعتِ رأسَك فضحكتِ، ما حَمَلَكِ على ذلك؟ قالت: إِنِّي إِذًا لَبَذِرَةٌ، أخبرني أنه ميِّتٌ من وجعِه هذا فبكيتُ، ثم أخبرني أنِّي أسرعُ أهل بيتِه لُحوقًا به، فذاك حين ضحكتُ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا على حديث الشَّعْبي عن مسروق عن عائشة ﵂ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7715 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا على حديث الشَّعْبي عن مسروق عن عائشة ﵂ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7715 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
عائشہ بنت طلحہ سیدہ عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں، انہوں نے فرمایا: میں نے اٹھنے بیٹھنے، عادات و اطوار، طرزِ زندگی اور سیرت و کردار میں فاطمہ بنت رسول اللہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو رسول اللہ ﷺ کے مشابہ نہیں دیکھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس تشریف لاتیں تو آپ ﷺ ان کے لیے کھڑے ہو جاتے، ان کا بوسہ لیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے، اور جب نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو جاتیں، آپ ﷺ کا بوسہ لیتیں اور آپ ﷺ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔ پھر جب نبی کریم ﷺ بیمار ہوئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حاضر ہوئیں اور آپ ﷺ پر جھک کر آپ ﷺ کا بوسہ لیا، پھر انہوں نے اپنا سر اٹھایا تو وہ رونے لگیں، پھر دوبارہ آپ ﷺ پر جھکیں اور سر اٹھایا تو وہ ہنسنے لگیں۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں) میں نے (دل میں) کہا: میں تو سمجھتی تھی کہ یہ ہماری عورتوں میں سب سے زیادہ سمجھدار ہیں، مگر یہ بھی عورتوں جیسی ہی (جذباتی) نکلیں۔ جب نبی کریم ﷺ کی وفات ہو گئی تو میں نے ان سے پوچھا: میں نے دیکھا تھا کہ جب آپ نبی کریم ﷺ پر جھکیں اور سر اٹھایا تو آپ روئیں، پھر دوبارہ جھکیں اور سر اٹھایا تو آپ ہنس دیں، آپ کو اس پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: ”تب تو میں (راز) فاش کرنے والی ٹھہرتی؛ (بات یہ تھی کہ) آپ ﷺ نے مجھے بتایا کہ وہ اپنی اسی بیماری میں رحلت فرما جائیں گے تو میں (یہ سن کر) رونے لگی، پھر آپ ﷺ نے مجھے بتایا کہ میں آپ ﷺ کے اہل خانہ میں سب سے پہلے آپ ﷺ سے جا ملوں گی، تو اس وقت میں (خوشی سے) ہنس پڑی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، ان دونوں نے صرف مسروق کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی شعبی والی حدیث پر اتفاق کیا ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، ان دونوں نے صرف مسروق کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی شعبی والی حدیث پر اتفاق کیا ہے۔