حدیث نمبر: 7908
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا العباس بن محمد الدُوري، حَدَّثَنَا عثمان بن عمر، حَدَّثَنَا إسرائيل، عن مَيْسَرةَ بن حَبيب، عن المِنْهال بن عمرو، عن عائشة بنت طلحة، عن عائشة أمِّ المؤمنين قالت ما رأيتُ أحدًا أشبهَ سَمْتًا ودَلًّا وهَديًا برسولِ الله ﷺ في قيامِها وقعودِها من فاطمة بنتِ رسول الله ﷺ. قالت: وكانت إذا دخلَتْ على النَّبِيِّ ﷺ، قامَ إليها فقبَّلها وأجلسَها في مَجلِسِه، وكان النبيُّ ﷺ إذا دخلَ عليها قامَتْ من مَجلِسِها، فقبَّلَتْه وأجلسَتْه في مَجْلِسِها، فلمَّا مَرِضَ النبيُّ ﷺ دخلَتْ فاطمةُ فأكبَّتْ عليه فقبَّلَته، ثم رفعت رأسَها [فبكَتْ، ثم أكبَّتْ عليه ورفعت رأسَها] (1) فضَحِكَت. فقلتُ: إني كنتُ أظنُّ أنَّ هذه من أعقلِ نسائِنا، فإذا هي من النِّساء، فلمَّا توفي النَّبِيّ ﷺ قلتُ لها: رأيتُكِ حين أكببتِ على النَّبِيِّ فرفعتِ رأسَك فبكيتِ، ثم أكببتِ عليه فرفعتِ رأسَك فضحكتِ، ما حَمَلَكِ على ذلك؟ قالت: إِنِّي إِذًا لَبَذِرَةٌ، أخبرني أنه ميِّتٌ من وجعِه هذا فبكيتُ، ثم أخبرني أنِّي أسرعُ أهل بيتِه لُحوقًا به، فذاك حين ضحكتُ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما اتفقا على حديث الشَّعْبي عن مسروق عن عائشة ﵂ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7715 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

عائشہ بنت طلحہ سیدہ عائشہ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں، انہوں نے فرمایا: میں نے اٹھنے بیٹھنے، عادات و اطوار، طرزِ زندگی اور سیرت و کردار میں فاطمہ بنت رسول اللہ رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو رسول اللہ ﷺ کے مشابہ نہیں دیکھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب وہ نبی کریم ﷺ کے پاس تشریف لاتیں تو آپ ﷺ ان کے لیے کھڑے ہو جاتے، ان کا بوسہ لیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے، اور جب نبی کریم ﷺ ان کے پاس تشریف لے جاتے تو وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہو جاتیں، آپ ﷺ کا بوسہ لیتیں اور آپ ﷺ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔ پھر جب نبی کریم ﷺ بیمار ہوئے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حاضر ہوئیں اور آپ ﷺ پر جھک کر آپ ﷺ کا بوسہ لیا، پھر انہوں نے اپنا سر اٹھایا تو وہ رونے لگیں، پھر دوبارہ آپ ﷺ پر جھکیں اور سر اٹھایا تو وہ ہنسنے لگیں۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں) میں نے (دل میں) کہا: میں تو سمجھتی تھی کہ یہ ہماری عورتوں میں سب سے زیادہ سمجھدار ہیں، مگر یہ بھی عورتوں جیسی ہی (جذباتی) نکلیں۔ جب نبی کریم ﷺ کی وفات ہو گئی تو میں نے ان سے پوچھا: میں نے دیکھا تھا کہ جب آپ نبی کریم ﷺ پر جھکیں اور سر اٹھایا تو آپ روئیں، پھر دوبارہ جھکیں اور سر اٹھایا تو آپ ہنس دیں، آپ کو اس پر کس چیز نے آمادہ کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: ”تب تو میں (راز) فاش کرنے والی ٹھہرتی؛ (بات یہ تھی کہ) آپ ﷺ نے مجھے بتایا کہ وہ اپنی اسی بیماری میں رحلت فرما جائیں گے تو میں (یہ سن کر) رونے لگی، پھر آپ ﷺ نے مجھے بتایا کہ میں آپ ﷺ کے اہل خانہ میں سب سے پہلے آپ ﷺ سے جا ملوں گی، تو اس وقت میں (خوشی سے) ہنس پڑی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا، ان دونوں نے صرف مسروق کی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی شعبی والی حدیث پر اتفاق کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأدب / حدیث: 7908
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7908] [ترقيم الشركة 7814] [ترقيم العلميه 7715]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) ما بين المعقوفين لم يرد في نسخنا الخطية، وأثبتناه من مصادر التخريج. وآخر الحديث يوجب وجوده حتَّى يتم المعنى.
نوٹ / توضیح: بریکٹ [ ] کے درمیان موجود عبارت ہمارے قلمی نسخوں میں نہیں تھی، ہم نے اسے تخریج کے دیگر مصادر سے ثابت کیا ہے۔ حدیث کا آخری حصہ اس عبارت کے ہونے کا تقاضا کرتا ہے تاکہ مفہوم مکمل ہو سکے۔
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه الترمذي (3872)، والنسائي (8311) و (9193)، وابن حبان (6953) من طرق عن عثمان بن عمر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (3872)، نسائی (8311، 9193) اور ابن حبان (6953) نے عثمان بن عمر کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (9192) من طريق النضر بن شميل، عن إسرائيل، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (9192) نے نضر بن شمیل عن اسرائیل (بن یونس) کی سند سے روایت کیا ہے۔
وسلف مختصرًا برقم (4785).
حوالہ / مصدر: یہ روایت پہلے نمبر (4785) پر اختصار کے ساتھ گزر چکی ہے۔
وأخرجه مختصرًا أحمد (41/ 24483) و (43/ 26032)، والبخاري (3625) و (3715) و (4433)، ومسلم (2450) (97)، والنسائي (8309)، وابن حبان (6954) من طريق عروة بن الزبير، والنسائي (8308) و (8459)، وابن حبان (6952) من طريق أبي سلمة، كلاهما عن عائشة.
حوالہ / مصدر: اسے مختصراً امام احمد (41/ 24483، 43/ 26032)، بخاری (3625، 3715، 4433)، مسلم (2450) (97)، نسائی (8309) اور ابن حبان (6954) نے عروہ بن زبیر کے طریق سے؛ اور نسائی (8308، 8459) و ابن حبان (6952) نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن کے طریق سے روایت کیا ہے، اور یہ دونوں (عروہ و ابوسلمہ) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں۔
والبَذِرُ: الذي يُفشي السرَّ ويُظهر ما يسمعه. قاله ابن الأثير في "النهاية".
نوٹ / توضیح: البَذِرُ: اس سے مراد وہ شخص ہے جو راز فاش کرتا ہو اور جو کچھ سنے اسے لوگوں میں ظاہر کر دے۔ یہ تعریف ابن اثیر نے "النهایہ" میں بیان کی ہے۔
(1) طريق مسروق هذه سلفت عند المصنّف برقم (4795)، وذكرنا تخريجها هناك.
حوالہ / مصدر: مسروق بن اجدع کی یہ سند مصنف کے ہاں پہلے نمبر (4795) پر گزر چکی ہے اور ہم نے وہاں اس کی مکمل تخریج ذکر کر دی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7908 سے ماخوذ ہے۔