کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: ندامت (شرمندگی) ہی توبہ ہے
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن شَيْبان الرَّمْلي، حدثنا سفيان بن عُيينة، عن عبد الكريم الجَزَري، عن زياد بن أبي مريم، عن عبد الله ابن مَعْقِل قال: دخلتُ أنا وأَبي على عبد الله بن مسعود، فقال له أَبي: أسمعتَ النبيَّ ﷺ يقول: "النَّدمُ توبةً؟ " قال: نعم، أنا سمعتُه يقول: "النَّدم توبةٌ" (3).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7612 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن معقل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور میرے والد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو میرے والد نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”ندامت ہی توبہ ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ہاں، میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”ندامت ہی توبہ ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7804
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد لا بأس برجاله، زياد بن أبي مريم روى عنه جمع، ووثقه العجلي وابن حبان والدارقطني، فأقلُّ أحواله أن يكون حسن الحديث، لكن اختلف في إسناده على عبد الكريم الجزري، وحاصل الخلاف أنَّ جماعة رووه عن عبد الكريم فقالوا: عن زياد ابن أبي مريم» [ترقيم الرساله 7804] [ترقيم الشركة 7711] [ترقيم العلميه 7612]
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان قال: سمعتُه من عبد الكريم الجَزَري يقول: أخبَرَناه زيادُ بن أبي مريم -قال: إن كان سعيدُ بن جُبير لَيستحيي أن يُحدِّث بحديثٍ وأنا جالسٌ، زيادٌ يقوله- عن عبد الله بن مَعقِل قال: دخلتُ مع أَبي على عبد الله، فقال أبي: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "النَّدم توبةٌ؟ قال: نعم، أنا سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "النَّدمُ توبةٌ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه اللفظة، إنما اتَّفقا على حديث الإفك، وقولِ رسول الله ﷺ لعائشةَ ﵂: "إنْ كنتِ بريئةً فسيُبَرِّتُكِ اللهُ، وإنْ كنتِ أَلمَمتِ بذنبٍ فاستغفرِي اللهَ وتوبي إليه، فإنَّ العبد إذا اعترف بذنبِه ثم تابَ، تاب اللهُ عليه" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن معقل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، تو میرے والد نے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”ندامت ہی توبہ ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ہاں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”ندامت ہی توبہ ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں نے حدیثِ افک پر اتفاق کیا ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: ”اگر تم اس معاملے سے بَری ہو تو اللہ عنقریب تمہاری برات ظاہر فرما دے گا، اور اگر تم سے کوئی گناہ سرزد ہوا ہے تو اللہ سے مغفرت مانگو اور اس کے حضور توبہ کرو، کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اعتراف کر کے توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7805
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح كسابقه
تخریج حدیث «حديث صحيح كسابقه» [ترقيم الرساله 7805] [ترقيم الشركة 7712]
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرَّازي. وحدثنا أبو النَّضر الفقيه وأبو الحسن العَنَزي، قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدَّارمي، حدثنا عثمان بن صالح السَّهْمي، حدثنا عبد الله بن وهب، عن يحيى بن أيوب، عن حُمَيد الطَّويل، قال: قلتُ لأنس بن مالك: أسمعتَ النبيَّ ﷺ يقول: "النَّدم توبةٌ"؟ قال: نعم (2). و
هذا حديث على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7614 - هذا من مناكير يحيى بن أيوب
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے ان سے پوچھا: کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”ندامت ہی توبہ ہے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ہاں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7806
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عثمان بن صالح السهمي ويحيى بن أيوب» [ترقيم الرساله 7806] [ترقيم الشركة 7713] [ترقيم العلميه 7614]