حدیث نمبر: 7805
حدثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان قال: سمعتُه من عبد الكريم الجَزَري يقول: أخبَرَناه زيادُ بن أبي مريم -قال: إن كان سعيدُ بن جُبير لَيستحيي أن يُحدِّث بحديثٍ وأنا جالسٌ، زيادٌ يقوله- عن عبد الله بن مَعقِل قال: دخلتُ مع أَبي على عبد الله، فقال أبي: سمعت رسول الله ﷺ يقول: "النَّدم توبةٌ؟ قال: نعم، أنا سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "النَّدمُ توبةٌ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه اللفظة، إنما اتَّفقا على حديث الإفك، وقولِ رسول الله ﷺ لعائشةَ ﵂: "إنْ كنتِ بريئةً فسيُبَرِّتُكِ اللهُ، وإنْ كنتِ أَلمَمتِ بذنبٍ فاستغفرِي اللهَ وتوبي إليه، فإنَّ العبد إذا اعترف بذنبِه ثم تابَ، تاب اللهُ عليه" (1).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن معقل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ہمراہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، تو میرے والد نے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”ندامت ہی توبہ ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ہاں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ: ”ندامت ہی توبہ ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے ان الفاظ کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں نے حدیثِ افک پر اتفاق کیا ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا تھا: ”اگر تم اس معاملے سے بَری ہو تو اللہ عنقریب تمہاری برات ظاہر فرما دے گا، اور اگر تم سے کوئی گناہ سرزد ہوا ہے تو اللہ سے مغفرت مانگو اور اس کے حضور توبہ کرو، کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اعتراف کر کے توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7805
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح كسابقه
تخریج حدیث «حديث صحيح كسابقه» [ترقيم الرساله 7805] [ترقيم الشركة 7712]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح كسابقه. سفيان: هو ابن عيينة.
درجۂ حدیث: یہ حدیث بھی سابقہ روایت کی طرح "صحیح" ہے۔ یہاں "سفیان" سے مراد سفیان بن عیینہ ہیں۔
وهو في "مسند الحميدي" برقم (105)، وليس فيه ذكر استحياء سعيد من زياد.
حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند الحمیدی" (حدیث نمبر 105) میں بھی موجود ہے، تاہم وہاں سعید بن جبیر کا زیاد سے حیا کرنے کا ذکر موجود نہیں ہے۔
(1) أخرجه البخاري (2661) و (4141) و (4690) و (4750)، ومسلم (2770) من حديث عائشة نفسها ﵂.
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج امام بخاری نے (حدیث نمبر 2661، 4141، 4690 اور 4750) میں اور امام مسلم نے (حدیث نمبر 2770) میں خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7805 سے ماخوذ ہے۔