کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی گمشدہ سواری مل جائے
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبَّار، حدثنا النَّضر بن شُميل بن خَرَشَة بن يزيد، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سِمَاك بن حرب، عن النُّعمان بن بَشير أنَّه سمعه يقول: قال رسول الله ﷺ: "ما يسافرُ رجلٌ في أرضٍ تَنُوفةٍ فقال تحتَ شجرة، ومعه راحلتُه عليها زادُه وطعامُه، فاستيقظ وقد أفلتَتْ راحلتُه، فعَلَا شَرَفًا فلم يَرَ شيئًا، ثم عَلَا شَرَفًا فلم يَرَ شيئًا، فالتَفَتَ فإذا هو بها تَجُرُّ خِطامَها، فما هو أشدَّ فَرَحًا بها من الله بتوبةِ عبدِه إذا تابَ إليه" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث البراء بن عازب:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7610 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب کوئی شخص کسی چٹیل اور خطرناک میدان میں سفر کر رہا ہو اور وہ کسی درخت کے سائے میں سستانے کے لیے رکے، اس کے ساتھ اس کی سواری ہو جس پر اس کا زادِ راہ اور کھانا پینا لدا ہو، پھر وہ سو کر اٹھے تو دیکھے کہ اس کی سواری غائب ہو چکی ہے، وہ (تلاش میں) کسی اونچی جگہ چڑھے مگر اسے کچھ نظر نہ آئے، پھر دوسری اونچی جگہ چڑھے وہاں بھی اسے کچھ دکھائی نہ دے، پھر وہ اچانک مڑ کر دیکھے تو وہ سواری اپنی لگام گھسیٹتی ہوئی اس کے سامنے کھڑی ہو، تو اسے اس سواری کے ملنے پر جتنی شدید خوشی ہوگی، اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی توبہ پر اس سے بھی کہیں زیادہ خوشی ہوتی ہے جب وہ اس کی بارگاہ میں رجوع کرتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7802
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد لا بأس برجاله، لكن قد اختلف في رفعه ووقفه على حمّاد بن سلمة وعلى شيخه سماك بن حرب، والراجح وقفه» [ترقيم الرساله 7802] [ترقيم الشركة 7709] [ترقيم العلميه 7610]
أخبرناه أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم (1) بن أبي غَرَزة، حدثنا عبيد الله بن موسى وأبو نُعيم، قالا: حدثنا عُبيد الله بن إياد بن لَقِيط، حدثنا إياد، عن البَرَاء بن عازب قال: قال رسول الله ﷺ: "كيف تقولون بفَرَح رجلٍ انفلتَتْ راحلتُه تجُرُّ زِمامَها بأرض قَفْرٍ ليس بها طعامٌ ولا شرابٌ، وعليها له طعامٌ وشرابٌ، فطَلَبها حتى شقَّ عليه، ثم مرَّتْ بجذْلِ شجرةٍ فتعلَّق زِمامُها، فوجدَها معلَّقةً به؟ " قلنا: شديدٌ يا رسولَ الله، قال: "أمَا واللهِ، اللهُ أشدُّ فَرَحًا بتوبة عبدِه من الرَّجل براحلتِه" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7611 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا اس شخص کی خوشی کے بارے میں کیا خیال ہے جس کی سواری کسی بیابان زمین میں جہاں نہ کھانا ہو نہ پانی، اپنی لگام گھسیٹتی ہوئی بھاگ جائے جبکہ اس کا سارا کھانا پینا اسی پر لدا ہو، وہ اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے نڈھال ہو جائے، پھر وہ سواری کسی درخت کے تنے کے پاس سے گزرے اور اس کی لگام وہاں پھنس جائے اور وہ اسے وہاں بندھا ہوا پا لے؟“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اسے بہت زیادہ خوشی ہوگی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”آگاہ رہو! اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص کی اپنی سواری ملنے والی خوشی سے بھی کہیں زیادہ خوشی ہوتی ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7803
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7803] [ترقيم الشركة 7710] [ترقيم العلميه 7611]