المستدرك على الصحيحين
كتاب التوبة والإنابة— توبہ اور رجوع الی اللہ کے متعلق روایات
اللَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنَ الرَّجُلِ بِرَاحِلَتِهِ . باب: اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے زیادہ خوش ہوتا ہے جس کی گمشدہ سواری مل جائے
أخبرناه أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم (1) بن أبي غَرَزة، حدثنا عبيد الله بن موسى وأبو نُعيم، قالا: حدثنا عُبيد الله بن إياد بن لَقِيط، حدثنا إياد، عن البَرَاء بن عازب قال: قال رسول الله ﷺ: "كيف تقولون بفَرَح رجلٍ انفلتَتْ راحلتُه تجُرُّ زِمامَها بأرض قَفْرٍ ليس بها طعامٌ ولا شرابٌ، وعليها له طعامٌ وشرابٌ، فطَلَبها حتى شقَّ عليه، ثم مرَّتْ بجذْلِ شجرةٍ فتعلَّق زِمامُها، فوجدَها معلَّقةً به؟ " قلنا: شديدٌ يا رسولَ الله، قال: "أمَا واللهِ، اللهُ أشدُّ فَرَحًا بتوبة عبدِه من الرَّجل براحلتِه" (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7611 - على شرط مسلمسیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارا اس شخص کی خوشی کے بارے میں کیا خیال ہے جس کی سواری کسی بیابان زمین میں جہاں نہ کھانا ہو نہ پانی، اپنی لگام گھسیٹتی ہوئی بھاگ جائے جبکہ اس کا سارا کھانا پینا اسی پر لدا ہو، وہ اسے ڈھونڈتے ڈھونڈتے نڈھال ہو جائے، پھر وہ سواری کسی درخت کے تنے کے پاس سے گزرے اور اس کی لگام وہاں پھنس جائے اور وہ اسے وہاں بندھا ہوا پا لے؟“ ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اسے بہت زیادہ خوشی ہوگی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”آگاہ رہو! اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص کی اپنی سواری ملنے والی خوشی سے بھی کہیں زیادہ خوشی ہوتی ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف (غلطی) کا شکار ہو کر "قانع" لکھا گیا ہے۔
(2) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه أحمد 30/ (18492)، ومسلم (2746) من طرق عن عبيد الله بن إياد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اس کی تخریج امام احمد نے "المسند" (جلد 30، حدیث نمبر 18492) اور امام مسلم نے (حدیث نمبر 2746) میں عبید اللہ بن ایاد کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔