حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيه، حدثنا محمد بن بشر بن مَطَر، حدثنا خالد بن خِدَاش الزَّهْراني، حدثنا بشَّار بن الحَكَم، عن ثابت البُناني، عن أنس ابن مالك: أنَّ أبا ذرٍّ الغِفاري بالَ قائمًا، فانتَضَحَ من بَوْلِه على ساقَيْه وقَدَمَيه، فقال له رجلٌ: إنه قد أصابَ من بولك قدمَيْك وساقَيْك، فلم يَرُدَّ عليه شيئًا حتى انتهى إلى دار قوم، فاستوهبهم طَهُورًا، فأخرجوا إليه، فتوضأ وغَسَلَ ساقيه وقَدَميه، ثم أقبلَ على الرَّجل، فقال: ماذا قلتَ؟ فقال: أمَّا الآنَ فقد فعلت فقال أبو ذرٍّ: هذا دواءُ هذا، دواءُ الذُّنوب أن تستغفرَ الله ﷿ (1). هذا وإن كان موقوفًا، فإنَّ إسناده صحيح عن أنس عن أبي ذر، وهذا موضعُه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7607 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7607 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا، تو ان کے پیشاب کے کچھ چھینٹے ان کی پنڈلیوں اور قدموں پر پڑ گئے، ایک شخص نے ان سے کہا کہ آپ کے پیشاب کے چھینٹے آپ کے قدموں اور پنڈلیوں پر لگ گئے ہیں، انہوں نے اسے کوئی جواب نہ دیا یہاں تک کہ وہ ایک قوم کے گھر پہنچے اور ان سے وضو کا پانی مانگا، انہوں نے پانی پیش کیا تو انہوں نے وضو کیا اور اپنی پنڈلیاں اور قدم دھوئے، پھر اس شخص کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: تم نے کیا کہا تھا؟ اس نے کہا: اب تو آپ نے (دھو کر) وہ کام کر لیا ہے، تو سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس (ظاہری ناپاکی) کا علاج یہی ہے، اور گناہوں کا علاج یہ ہے کہ تم اللہ عزوجل سے مغفرت طلب کرو۔“
یہ روایت اگرچہ موقوف ہے، لیکن اس کی سند سیدنا انس سے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما تک صحیح ہے، اور یہی اس کا (مناسب) مقام ہے۔
یہ روایت اگرچہ موقوف ہے، لیکن اس کی سند سیدنا انس سے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہما تک صحیح ہے، اور یہی اس کا (مناسب) مقام ہے۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا إبراهيم بن عبد الله، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا همام بن يحيى، عن إسحاق بن عبد الله بن أبي طلحة قال: كان قاصٌّ بالمدينة يُقال له: عبد الرحمن بن أبي عَمْرة، فسمعتُه يقول: سمعتُ أبا هريرة يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "إنَّ عبدًا أصابَ ذنبًا، فقال: يا ربِّ، أذنبتُ ذنبًا فاغفِرْ لي، فقال له ربُّه: عَلِمَ عبدي أنَّ له ربًّا يغفِرُ الذنبَ ويأخذُ به، فغفرَ له، ثم مَكَثَ ما شاء اللهُ، ثم أذنب ذنبًا آخر، فقال: يا ربِّ، أذنبتُ ذنبًا فاغفِرْ لي، فقال ربُّه ﷿: عَلِمَ عبدي أنَّ له ربًّا يغفِرُ الذنب ويأخذُ به، قد غفرتُ لعبدي، فلْيَعْمَلْ ما شاءَ، ثم عاد فأذنبَ ذنبًا، فقال: ربِّ اغفِرْ لي ذنبي، فقال الله ﵎: أذنب عبدي ذنبًا فعَلِمَ أنَّ له ربًّا يغفِرُ الذنب ويأخذُ بالذنب، اعمَلْ ما شئتَ قد غفرتُ لك" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7608 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7608 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”ایک بندے سے گناہ سرزد ہوا تو اس نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھ سے گناہ ہو گیا ہے، مجھے معاف فرما دے، تو اس کے رب نے فرمایا: میرے بندے کو یہ علم ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ معاف بھی کرتا ہے اور اس پر پکڑ بھی کرتا ہے، چنانچہ اللہ نے اسے معاف کر دیا، پھر وہ جب تک اللہ نے چاہا (گناہوں سے) رکا رہا، پھر اس سے دوبارہ کوئی گناہ ہوا تو اس نے عرض کیا: اے میرے رب! مجھ سے گناہ ہو گیا ہے مجھے معاف فرما دے، تو اس کے رب عزوجل نے فرمایا: میرے بندے کو علم ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ معاف بھی کرتا ہے اور اس پر پکڑ بھی کرتا ہے، میں نے اپنے بندے کو معاف کر دیا، اب وہ جو چاہے کرے، پھر اس نے تیسری بار گناہ کیا اور عرض کیا: رب! میرا گناہ معاف کر دے، تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندے نے گناہ کیا اور اسے یہ علم ہے کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ معاف کرتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے، (اے بندے!) تو جو چاہے کر میں نے تجھے معاف کر دیا ہے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا علي بن حَمشاذ العَدْل، حدثنا أبو عمرو أحمد بن المبارك، حدثنا قُتيبة بن سعيد، حدثنا جابر بن مرزوق المكيّ، عن عبد الله بن عبد العزيز بن عبد الله ابن عمر بن الخطّاب، عن أبي طُوَالة، عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن أذنب ذنبًا فعَلِمَ أنَّ له ربًّا إن شاء أن يغفرَه له غفرَه له، وإنْ شاءَ عذَّبَه، كان حقًّا على الله أن يَغْفِرَ له" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7609 - لا والله ومن جابر حتى يكون حجة بل هو نكرة وحديثه منكر والعمري هو الزاهد أحد الثقات
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7609 - لا والله ومن جابر حتى يكون حجة بل هو نكرة وحديثه منكر والعمري هو الزاهد أحد الثقات
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص سے کوئی گناہ ہوا اور اسے یہ علم ہو کہ اس کا ایک رب ہے، اگر وہ چاہے تو اسے معاف کر دے اور اگر چاہے تو اسے سزا دے، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر یہ حق ہے کہ وہ اسے معاف فرما دے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔