کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: اللہ کے ساتھ حسنِ ظن رکھنا اللہ کی عبادت کا حصہ ہے
أخبرني الحسن بن حَلِيم (1) المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدان، أخبرنا عبد الله، أخبرنا هشام بن الغاز، عن حَيَّان أبي النَّضر أنه حدّثه قال: سمعتُ واثلةَ بن الأسقع يقول: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "قال الله ﵎: أنا عندَ ظَنِّ عبدي بي، فليَظُنَّ بي ما شاءَ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7603 - صحيح وعلى شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جیسا وہ میرے بارے میں رکھتا ہے، پس وہ میرے بارے میں جو چاہے گمان رکھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7795
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو الموجه: هو محمد بن عمرو الفزاري، وعبدان: هو عبد الله بن عثمان المروزي، وعبد الله: هو ابن المبارك» [ترقيم الرساله 7795] [ترقيم الشركة 7702] [ترقيم العلميه 7603]
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا علي بن عبد العزيز البَغَوي وأبو مسلم، قالا: حدثنا حجَّاجُ بن مِنْهال، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، محمد بن واسع، عن شُتَير بن نَهَار، عن أبي هريرة، عن النبيِّ ﷺ قال: "إِنَّ حُسْنَ الظَّنِّ بالله تعالى من حُسْن عبادةِ الله" (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7604 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کے ساتھ اچھا گمان رکھنا اللہ کی بہترین عبادت میں سے ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7796
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لتفرد شتير بن نهار» [ترقيم الرساله 7796] [ترقيم الشركة 7703] [ترقيم العلميه 7604]
أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُزاعي بمكة حرسها الله، حدثنا أبو يحيى ابن أبي مَسَرَّة (1)، حدثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدثنا همَّام بن يحيى، عن عاصم، عن المَعْرور بن سُوَيد، أنَّ أبا ذرٍّ قال: حدثنا الصادقُ المصدوقُ ﷺ فيما يروي عن ربِّه ﵎ أنه قال: "الحَسَنةُ بعَشْر أمثالِها أو أَزِيدُ، والسيئةُ واحدةٌ أو أغفِرُها. ولو لَقِيتَني بقُرَابِ الأرض خطايا ما لم تُشرِكْ بي، لَقِيتُك بقُرَابها مغفرةً" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7605 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں صادق و مصدوق ﷺ نے اپنے رب عزوجل سے روایت کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”نیکی کا بدلہ دس گنا ہے یا میں اس سے بھی زیادہ کر دوں گا، اور برائی کا بدلہ اسی کے برابر ایک گناہ ہے یا میں اسے معاف کر دوں گا۔ اور اگر تم مجھ سے زمین بھر گناہوں کے ساتھ ملو بشرطیکہ تم نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہو، تو میں تم سے اتنی ہی بڑی مغفرت کے ساتھ ملوں گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التوبة والإنابة / حدیث: 7797
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم» [ترقيم الرساله 7797] [ترقيم الشركة 7704] [ترقيم العلميه 7605]