کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: اس شخص کا حکم جس نے ذبح کیا اور (بسم اللہ) پڑھنا بھول گیا
أخبرنا محمد بن أحمد بن تَميم (3) القَنْطري، حدثنا أبو قِلابة، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا ابن جُرَيج عن عمرو بن دينار، عن جابر بن زيد وعِكْرمة، عن ابن عباس في رجلٍ ذبح ونَسِيَ أن يُسمِّي، قال: يأكلُ، وفي المَجُوسيِّ يذبحُ ويُسمِّي، قال: لا يأكلُ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7572 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7572 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں روایت ہے جو ذبح کرے اور (اللہ کا نام) تسمیہ لینا بھول جائے، انہوں نے فرمایا: وہ اسے کھائے، اور اگر کوئی مجوسی ذبح کرے اور وہ (اللہ کا نام) تسمیہ بھی پڑھے تو انہوں نے فرمایا: وہ اسے نہ کھائے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا معاذ بن نَجْدة (2) القرشي، حدثنا قَبِيصة بن عُقْبة، حدثنا سفيان، عن هارون بن أبي وَكيع -وهو هارون ابن عَنترَة- عن أبيه، عن ابن عباس في قول الله ﷿: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ﴾ [الأنعام: 121]، قال: خاصَمَهم المشركون، فقالوا: ما قَتَلُوا أَكلوا، وما قَتلَ اللهُ لم يأكلوا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7573 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7573 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأنعام: 121] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: مشرکین نے (صحابہ سے) جھگڑا کیا اور کہنے لگے: جو تم خود قتل کرتے ہو (یعنی ذبح کرتے ہو) اسے تو کھا لیتے ہو، اور جسے اللہ قتل کرے (یعنی مردار) اسے تم نہیں کھاتے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني علي بن عيسى الحِيَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عمر حدثنا سفيان، حدثنا عمرو بن دينار، قال: سمعتُ صُهيبًا مولى ابن عامر يُخبر، أنَّ عبد الله بن عمرو أخبره عن النبيِّ ﷺ قال: "ما مِن إنسانٍ يقتُلَ عُصفورًا فما فوقَها بغير حقِّها، إلَّا سأله الله ﷿ عنها يومَ القيامة" قيل: يا رسولَ الله، وما حقُّها؟ قال: "حقُّها أن يَذبحَها فيأكلَها (2)، ولا يقطع رأسَها فيَرميَ به" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7574 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7574 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس انسان نے کسی چڑیا یا اس سے بڑے کسی جاندار کو ناحق قتل کیا تو اللہ عزوجل قیامت کے دن اس کے بارے میں ضرور سوال فرمائے گا“ عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس کا حق یہ ہے کہ اسے ذبح کر کے کھایا جائے، نہ کہ اس کا سر کاٹ کر پھینک دیا جائے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔