المستدرك على الصحيحين
كتاب الذبائح— ذبیحہ کے متعلق روایات
رَجُلٌ ذَبَحَ وَنَسِيَ أَنْ يُسَمِّيَ . باب: اس شخص کا حکم جس نے ذبح کیا اور (بسم اللہ) پڑھنا بھول گیا
حدیث نمبر: 7764
أخبرني أحمد بن محمد بن سَلَمة العَنَزي، حدثنا معاذ بن نَجْدة (2) القرشي، حدثنا قَبِيصة بن عُقْبة، حدثنا سفيان، عن هارون بن أبي وَكيع -وهو هارون ابن عَنترَة- عن أبيه، عن ابن عباس في قول الله ﷿: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ﴾ [الأنعام: 121]، قال: خاصَمَهم المشركون، فقالوا: ما قَتَلُوا أَكلوا، وما قَتلَ اللهُ لم يأكلوا (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7573 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأنعام: 121] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے کہا: مشرکین نے (صحابہ سے) جھگڑا کیا اور کہنے لگے: جو تم خود قتل کرتے ہو (یعنی ذبح کرتے ہو) اسے تو کھا لیتے ہو، اور جسے اللہ قتل کرے (یعنی مردار) اسے تم نہیں کھاتے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرف في النسخ الخطية إلى: نجد.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہاں تحریف ہو کر لفظ "نجد" لکھا گیا ہے۔
(1) صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل معاذ بن نجدة القرشي وهارون بن أبي وكيع. سفيان: هو الثَّوري.
درجۂ حدیث: یہ صحیح ہے، اور معاذ بن نجدہ قرشی اور ہارون بن ابی وکیع کی وجہ سے یہ سند 'حسن' کے درجے پر ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود سفیان سے مراد سفیان الثوری ہیں۔
وأخرجه النسائي (4511) و (1106) من طريق يحيى بن سعيد القطان، عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی نے (4511 اور 1106) میں یحییٰ بن سعید القطان کے طریق سے سفیان الثوری کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر (7282) و (7755).
حوالہ / مصدر: مزید مطالعہ کے لیے حدیث نمبر 7282 اور 7755 ملاحظہ فرمائیں۔
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہاں تحریف ہو کر لفظ "نجد" لکھا گیا ہے۔
(1) صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل معاذ بن نجدة القرشي وهارون بن أبي وكيع. سفيان: هو الثَّوري.
درجۂ حدیث: یہ صحیح ہے، اور معاذ بن نجدہ قرشی اور ہارون بن ابی وکیع کی وجہ سے یہ سند 'حسن' کے درجے پر ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود سفیان سے مراد سفیان الثوری ہیں۔
وأخرجه النسائي (4511) و (1106) من طريق يحيى بن سعيد القطان، عن سفيان الثوري، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی نے (4511 اور 1106) میں یحییٰ بن سعید القطان کے طریق سے سفیان الثوری کی اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر (7282) و (7755).
حوالہ / مصدر: مزید مطالعہ کے لیے حدیث نمبر 7282 اور 7755 ملاحظہ فرمائیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7764 سے ماخوذ ہے۔