کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: افضل قربانی وہ ہے جو قیمت میں مہنگی اور جسم میں زیادہ فربہ (موٹی تازی) ہو
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو عُتبة أحمد بن الفَرَج، حدثنا بقيّة بن الوليد، حدثنا عثمان بن زُفَر الجُهَني، حدثني أبو الأسود السُّلمي، عن أبيه، عن جدِّه قال: كنتُ سابعَ سبعةٍ [مع] (3) رسولِ الله ﷺ في سفرةٍ، فأدركَنا الأضحى، فأمرَنا رسولُ الله ﷺ فَجَمَعَ كل رجل منّا درهمًا، فاشترينا أُضحيَّةً بسبعةِ دراهمَ، وقلنا: يا رسولَ الله، لقد غَلَّيْنا بها، فقال: "إنَّ أفضلَ الضَّحايا أغلاها وأسمنُها". قال: ثم أمرَنا رسولُ الله ﷺ فأخذ رجلٌ برجلٌ، ورجْلٍ برجلٌ بيدٍ، ورجلٌ بيدٍ، ورجلٌ بقَرْنٍ، ورجلٌ [بقَرْن] (4)، وذَبَحَ السابعُ، وكبَّروا عليها جميعًا (5).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7561 - عثمان بن زفر ثقة
حافظ طلحہ بابر
ابو الاسود سلمی اپنے والد اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات افراد میں سے ساتواں تھا، تو عید الاضحی کا وقت آ گیا، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا تو ہم میں سے ہر شخص نے ایک ایک درہم جمع کیا اور ہم نے سات درہم میں ایک قربانی کا جانور خریدا، ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم نے اسے مہنگے داموں خریدا ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک بہترین قربانیاں وہ ہیں جو سب سے زیادہ قیمتی اور سب سے زیادہ فربہ ہوں۔“ راوی کہتے ہیں: پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا، تو ایک شخص نے ایک ٹانگ پکڑی، دوسرے نے دوسری ٹانگ، تیسرے نے ایک ہاتھ، چوتھے نے دوسرا ہاتھ، پانچویں نے ایک سینگ اور چھٹے نے دوسرا سینگ پکڑا، جبکہ ساتویں شخص نے اسے ذبح کیا اور ان سب نے مل کر اس پر تکبیر کہی۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأضاحي / حدیث: 7752
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًا، مسلسل بالضعفاء والمجاهيل، أحمد بن الفرج وبقية بن الوليد فيهما ضعف، وعثمان بن زفر الجهني روى عنه اثنان وذكره ابن حبان في "الثقات"، وأبو الأسود السلمي، ويقال له أيضًا: أبو الأشد، وأبو الأسد، انفرد بالرواية عنه عثمان بن زفر، ولم يؤثر توثيقه عن أحد، فهو مجهول، وأبوه ...» [ترقيم الرساله 7752] [ترقيم الشركة 7660] [ترقيم العلميه 7561]
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل ابن عُليَّة، حدثنا زياد بن مِخراق، عن معاوية بن قُرَّة، عن أبيه: أنَّ رجلًا قال: يا رسول الله، إنِّي لأرحمُ الشاةَ أن أذبحها، فقال رسولُ الله ﷺ: "إنْ رَحِمتَها رَحِمَك الله" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7562 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا معاویہ بن قرہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میں جب بکری ذبح کرنے لگتا ہوں تو مجھے اس پر ترس آتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر تم اس پر رحم کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأضاحي / حدیث: 7753
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح» [ترقيم الرساله 7753] [ترقيم الشركة 7661] [ترقيم العلميه 7562]