کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: نبی کریم ﷺ نے سینگوں والے بڑے اور تندرست مینڈھے کی قربانی کی
حدثني محمد بن صالح بن هانئ والحسن بن يعقوب العَدْل، قالا: حدثنا السَّرِي بن خُزيمة، حدثنا عُمر بن حفص بن غِيَاث، حدثني أبي، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن أبي سعيد قال: ضحَّى رسول الله ﷺ بكبشٍ أقرنَ فَحِيلٍ يمشي في سَوادٍ، ويأكلُ في سَوادٍ، وينظُرُ في سَوادٍ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7548 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7548 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے مینڈھے کی قربانی کی جو سینگوں والا اور قوی تھا، وہ سیاہی میں چلتا، سیاہی میں کھاتا اور سیاہی میں دیکھتا تھا (یعنی اس کے پاؤں، پیٹ اور آنکھوں کے گرد کا حصہ سیاہ تھا)۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نصر، حدثنا عبد الله ابن وهب، قال: وأخبرني الدَّرَاوَرْدي، عن رُبَيح بن عبد الرحمن بن أبي سعيد الخُدْري، عن أبيه، عن جدّه: أنَّ رسول الله ﷺ ذَبَحَ كبشًا أقرن بالمُصلَّى، ثم قال: "اللهمَّ هذا عنِّي وعن مَن لم يُضحِّ من أُمّتي" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7549 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7549 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عید گاہ میں ایک سینگوں والا مینڈھا ذبح کیا، پھر فرمایا: ”اے اللہ! یہ میری طرف سے ہے اور میری امت کے ان لوگوں کی طرف سے ہے جنہوں نے قربانی نہیں کی“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أحمد بن النَّضر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدة، عن بَيَان البَجَلي، عن عامر، عن (2) أبي سَرِيحة قال: حَمَلَني أهلي على الجَفَاء بعدما علمتُ السُّنةَ، كنا نُضحِّي بالشاة والشاتَين عن أهل البيتِ، فقال أهلي: إنَّ جِيرانَنا يَزعمُون أنَّما بنا البُخلُ (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7550 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7550 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سریحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سنت کا علم ہونے کے بعد میرے گھر والوں نے مجھے سختی پر مجبور کر دیا، ہم گھر والوں کی طرف سے ایک یا دو بکریاں قربان کیا کرتے تھے، تو میرے گھر والوں نے کہا: ہمارے پڑوسی گمان کرتے ہیں کہ ہم بخل کر رہے ہیں (کیونکہ ہم جانوروں کی تعداد نہیں بڑھاتے)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔