المستدرك على الصحيحين
كتاب الأضاحي— قربانی کے متعلق روایات
ضَحَّى النَّبِيُّ بِكَبْشٍ أَقْرَنَ فَحِيلٍ . باب: نبی کریم ﷺ نے سینگوں والے بڑے اور تندرست مینڈھے کی قربانی کی
حدیث نمبر: 7741
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن أحمد بن النَّضر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا زائدة، عن بَيَان البَجَلي، عن عامر، عن (2) أبي سَرِيحة قال: حَمَلَني أهلي على الجَفَاء بعدما علمتُ السُّنةَ، كنا نُضحِّي بالشاة والشاتَين عن أهل البيتِ، فقال أهلي: إنَّ جِيرانَنا يَزعمُون أنَّما بنا البُخلُ (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7550 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سریحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سنت کا علم ہونے کے بعد میرے گھر والوں نے مجھے سختی پر مجبور کر دیا، ہم گھر والوں کی طرف سے ایک یا دو بکریاں قربان کیا کرتے تھے، تو میرے گھر والوں نے کہا: ہمارے پڑوسی گمان کرتے ہیں کہ ہم بخل کر رہے ہیں (کیونکہ ہم جانوروں کی تعداد نہیں بڑھاتے)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) تحرَّفت "عن" في النسخ الخطية إلى: بن.
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں لفظ "عن" غلطی سے "بن" میں تبدیل ہو گیا ہے۔
(3) إسناده صحيح. معاوية بن عمرو: هو ابن المهلب الأزدي، وزائدة هو ابن قدامة، وعامر: هو ابن شراحيل الشعبي، وأبو سريحة هي كنية الصحابي حذيفة بن أَسِيد الغفاري.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راویوں کی تفصیل یہ ہے: معاویہ بن عمرو (مہلب ازدی)، زائدہ (بن قدامہ)، عامر (شعبی) اور ابو سریحہ مشہور صحابی حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (3148) من طريق سفيان الثوري، عن بيان بن بشر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (3148) نے سفیان ثوری کے طریق سے بیان بن بشر کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ورواية البيهقي 9/ 269 توضح معنى الحديث، ولفظها: حملني أهلي على الجفاء بعدما علمتُ السُّنة، كان أهل البيت يضحُّون بالشاة، فالآن يبخِّلنا جيرانُنا، يقولون: إنه ليس عليه ضَحيَّة.
نوٹ / توضیح: بیہقی (جلد 9، صفحہ 269) کی روایت حدیث کا معنی واضح کرتی ہے: "سنت جاننے کے بعد میرے گھر والوں نے مجھے سختی پر مجبور کیا؛ پہلے ایک گھر کی طرف سے ایک بکری کافی سمجھی جاتی تھی، مگر اب ہمارے پڑوسی ہمیں بخیل کہتے ہیں کہ اس پر قربانی ہی نہیں (کیونکہ وہ اسے انفرادی واجب سمجھتے تھے)"۔
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں لفظ "عن" غلطی سے "بن" میں تبدیل ہو گیا ہے۔
(3) إسناده صحيح. معاوية بن عمرو: هو ابن المهلب الأزدي، وزائدة هو ابن قدامة، وعامر: هو ابن شراحيل الشعبي، وأبو سريحة هي كنية الصحابي حذيفة بن أَسِيد الغفاري.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: راویوں کی تفصیل یہ ہے: معاویہ بن عمرو (مہلب ازدی)، زائدہ (بن قدامہ)، عامر (شعبی) اور ابو سریحہ مشہور صحابی حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (3148) من طريق سفيان الثوري، عن بيان بن بشر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (3148) نے سفیان ثوری کے طریق سے بیان بن بشر کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
ورواية البيهقي 9/ 269 توضح معنى الحديث، ولفظها: حملني أهلي على الجفاء بعدما علمتُ السُّنة، كان أهل البيت يضحُّون بالشاة، فالآن يبخِّلنا جيرانُنا، يقولون: إنه ليس عليه ضَحيَّة.
نوٹ / توضیح: بیہقی (جلد 9، صفحہ 269) کی روایت حدیث کا معنی واضح کرتی ہے: "سنت جاننے کے بعد میرے گھر والوں نے مجھے سختی پر مجبور کیا؛ پہلے ایک گھر کی طرف سے ایک بکری کافی سمجھی جاتی تھی، مگر اب ہمارے پڑوسی ہمیں بخیل کہتے ہیں کہ اس پر قربانی ہی نہیں (کیونکہ وہ اسے انفرادی واجب سمجھتے تھے)"۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7741 سے ماخوذ ہے۔