حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا أبو معاوية، حدثنا الأعمش. وحدثنا أبو عبد الله الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا يعلى بن عُبيد، حدثنا الأعمش، عن أبي سفيان (2)، عن جابر قال: مرضَ أُبيُّ بن كعب، فبعث النبيُّ ﷺ إليه طبيبًا، فقَطَعَ منه عِرقًا ثم كَوَاه عليه (3).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7494 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7494 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو نبی کریم ﷺ نے ان کی طرف ایک طبیب بھیجا، اس نے ان کی ایک رگ کاٹی پھر اس پر داغ لگایا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بحر بن نصر، حدثنا عبد الله ابن وهب، أخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن أبي أُمامة بن سهل بن حُنَيف: أنَّ رسول الله ﷺ عاد أسعدَ (1) بن زُرَارة وبه الشَّوْكة، فلما دخل عليه قال: "بِئسَ الميتَ هذا، اليهودُ يقولون: لولا دَفَعَ عنه، ولا أَملِكُ له ولا لنفسي شيئًا، ولا يَلُومُنَّ في أبي أُمامة"، فأَمر به فكُوِيَ فمات (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين إذا كان أبو أُمامة عندهما من الصحابة، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7495 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين إذا كان أبو أُمامة عندهما من الصحابة، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7495 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کی جبکہ انہیں ”شوکہ“ (سرخ باد یا گلے کی تکلیف) کی شکایت تھی، جب آپ ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے تو فرمایا: ”یہ کتنا برا مرنے والا ہے، یہودی کہیں گے کہ (اگر یہ نبی ہوتے تو) اسے بچا کیوں نہ لیا، حالانکہ میں نہ ان کے لیے اور نہ ہی اپنی ذات کے لیے کسی چیز کا اختیار رکھتا ہوں، اور وہ ابو امامہ کے بارے میں ملامت نہ کریں“، چنانچہ آپ ﷺ نے انہیں داغ لگوانے کا حکم دیا لیکن وہ وفات پا گئے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے بشرطیکہ ابو امامہ ان کے نزدیک صحابی ہوں، اور انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے بشرطیکہ ابو امامہ ان کے نزدیک صحابی ہوں، اور انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو سهل بن زياد حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرقان، حدثنا أبو داود، حدثنا شُعبة، عن محمد بن عبد الرحمن بن زُرَارة قال: سمعتُ عمِّي -وما رأيت أحدًا مِنَّا به شبيهٌ- يحدِّثُ: أنَّ أسعدَ (3) بن زُرَارة أخذه وَجَعٌ، وتُسمِّيه أهلُ المدينة الذِّبح (1)، فكَوَاه رسولُ الله ﷺ فمات، فقال رسولُ الله ﷺ: "ميتُ سُوءٍ ليهودَ (2)، ليقولون: لولا دَفَعَ عن صاحبِه، ولا أملِكُ له ولا لنفسي شيئًا" (3). و
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7496 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7496 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عبدالرحمن بن زرارہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کو تکلیف ہوئی جسے اہل مدینہ ”ذبح“ (گلے کی شدید بیماری) کہتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے انہیں داغ لگایا لیکن وہ فوت ہو گئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہودیوں کے لیے یہ بری موت ہے، وہ ضرور کہیں گے کہ (اگر یہ سچے نبی ہوتے تو) اپنے ساتھی کو بچا کیوں نہ لیا، حالانکہ میں نہ ان کے لیے اور نہ ہی اپنی ذات کے لیے کسی چیز کا اختیار رکھتا ہوں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔