کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: بے شک اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عَتَّاب، حدّثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدّثنا يحيى بن حمّاد، حدّثنا شُعبة، عن أبَان بن تَغلِب، عن الفُضيل بن عمرو الفُقَيمي، عن إبراهيم، عن علقمة بن قيس، عن عبد الله بن مسعود، عن النبيّ ﷺ قال: "إنَّ الله جَميلٌ يُحِبُّ الجَمَالَ" (2). كتب الحاكمُ بخطّه هاهنا: يُخرَّج بطوله.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7365 - سكت عنه الذهبي في التلخيص من هذا الموضع
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7365 - سكت عنه الذهبي في التلخيص من هذا الموضع
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ جمیل (خوبصورت) ہے اور وہ جمال کو پسند فرماتا ہے۔“
امام حاکم نے یہاں اپنے ہاتھ سے تحریر فرمایا ہے کہ اسے اس کی پوری طوالت کے ساتھ روایت کیا جانا چاہیے۔
امام حاکم نے یہاں اپنے ہاتھ سے تحریر فرمایا ہے کہ اسے اس کی پوری طوالت کے ساتھ روایت کیا جانا چاہیے۔
حدَّثني علي بن عيسى الحِيرِيّ، حدّثنا الحسين بن محمد القَبّانيّ، حدّثنا يحيى بن حَكيم، حدّثنا أبو بحر عبد الرحمن بن عثمان البَكْراويّ، حدّثنا هشام بن حسان، عن محمد بن سِيرِين، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا أتى النَّبِيَّ ﷺ فقال: يا رسول الله، إنِّي رجلٌ حُبِّب إليَّ الجَمَالُ، وأُعطيتُ منه ما ترى، حتَّى ما أُحبُّ أن يَفوقَني أحدٌ بشِرَاكَ نَعْلي، أو شِسْع نَعْلي، أفمِنَ الكِبْر هذا؟ قال: "لا، ولكن من الكِبْر مَن بَطِرَ الحقَّ، وغَمِصَ الناسَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ایک ایسا آدمی ہوں جسے جمال پسند ہے اور مجھے اس میں سے وہ کچھ عطا کیا گیا ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں، یہاں تک کہ میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میرے جوتوں کے تسمے یا چمڑے کے بند میں بھی کوئی مجھ سے بہتر ہو، تو کیا یہ تکبر ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ تکبر تو حق کی مخالفت کرنے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
فحدَّثناه أبو إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا أبو بكر محمد بن إسحاق، حَدَّثَنَا محمد بن يحيى القُطَعي (2) ومحمد بن عبد الأعلى الصنعاني، قالا: حَدَّثَنَا بشر بن المُفضَّل، حَدَّثَنَا ابن عَوْن، عن عمرو بن سعيد، عن حُميد بن عبد الرحمن، قال: قال ابن مسعود: كنتُ لا أُحجَبُ - أو قال: كنتُ لا أُحبَسُ - عن ثلاث عن النَّجْوى، وعن كذا وكذا، قال: فأتيتُه وعنده مالكُ بن مُرَارة الرَّهَاوي، فأدركتُ من آخر حديثه وهو يقول: يا رسولَ الله، قد أُعطِيتُ من الجَمَال ما ترى، وما أُحبُّ أنَّ أحدًا يفوقَني بشِراك نَعْلي، أفذاك من البَغْي؛ قال: "ليس ذاكَ بالبَغْي (3) ولكنَّ البغيَ مَن بَطِرَ الحقَّ - أو قال: سَفِهَ الحقَّ - وغَمِطَ الناسَ" (4). و
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7367 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7367 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں تین باتوں یعنی سرگوشی اور فلاں فلاں کاموں سے (رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری سے) نہیں روکا جاتا تھا، میں آپ ﷺ کے پاس آیا تو وہاں مالک بن مرارہ رہاوی موجود تھے، میں نے ان کی بات کا آخری حصہ پایا جس میں وہ عرض کر رہے تھے: اے اللہ کے رسول! مجھے جمال میں سے وہ کچھ عطا کیا گیا ہے جو آپ دیکھ رہے ہیں اور میں پسند نہیں کرتا کہ میرے جوتے کے تسمے میں بھی کوئی مجھ سے بڑھ کر ہو، تو کیا یہ سرکشی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ سرکشی نہیں ہے بلکہ سرکشی (تکبر) تو حق کی مخالفت کرنے اور لوگوں کو حقیر سمجھنے کا نام ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔