المستدرك على الصحيحين
كتاب اللباس— لباس کے متعلق روایات
إِذَا آتَاكَ اللَّهُ مَالًا فَلْيُرَ عَلَيْكَ باب: جب اللہ تمہیں مال عطا فرمائے تو اس (کی نعمت) کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے
أخبرني علي بن عبد الله الحَكِيمي (3) ببغداد، حدّثنا العباس بن الدُّوري، حدّثنا وهب بن جَرير، حدّثنا شُعْبة، عن أبي إسحاق، قال: سمعتُ أبا الأحوص يُحدِّث عن أبيه قال: أتيتُ النبيّ ﷺ وأنا قَشِفُ الهيئة، قال: "هل لك من مال؟ " قلتُ: نعم، قال: "مِن أيِّ المال؟ " قلتُ: من كلِّ المال من الإبل والرّقيق والخيل والغَنَم، قال: "فإذا آتاك اللهُ مالًا فليُرَ عليك" ثم قال: "هل تُنتَجُ إبلُ قومِك صِحاحٌ آذانُها فتَعْمِدُ إلى الموسى فتقطعُ آذانها فتقول: هذه بَحِيرةٌ، وتشقُّها - أو تشقُّ جلودَها - وتقول: هذه صُرُمٌ، فتحرِّمُها عليك وعلى أهلك؟ " قال: نعم، قال: "فإنَّ ما أعطاك الله لك حِلٌّ، موسى اللهِ أَحدُّ" وربما قال: "ساعدُ اللهِ أَشدُّ من ساعدك، وموسى اللهِ أحدُّ من مُوساك"، قلتُ: يا رسول الله، أرأيت رجلًا نزلتُ به فلم يُكرِمْني ولم يَقْرِنيّ، ثم نَزَلَ بي، أَجزِيهِ كما صنع، أو أقرِيهِ؟ قال: "أَقْرِهِ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7364 - صحيحسیدنا ابواحوص اپنے والد (سیدنا مالک بن نضلہ رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ میری حالت پراگندہ تھی، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”کیا تمہارے پاس مال و دولت ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں، آپ ﷺ نے پوچھا: ”کس قسم کا مال ہے؟“ میں نے عرض کیا: ہر قسم کا مال ہے، اونٹ، غلام، گھوڑے اور بھیڑ بکریاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو جب اللہ نے تمہیں مال عطا کیا ہے تو اس کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے۔“ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تمہارے اونٹوں سے صحیح سالم کانوں والے بچے پیدا ہوتے ہیں تو تم چھری لے کر ان کے کان کاٹ دیتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ «بَحِيرةٌ» ہے، اور تم ان کے کان یا کھالیں چیر دیتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ «صُرُمٌ» ہیں، پھر انہیں اپنے اور اپنے گھر والوں پر حرام کر لیتے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ نے جو تمہیں دیا ہے وہ تمہارے لیے حلال ہے، اللہ کا استرا زیادہ تیز ہے (یعنی اللہ کے احکام تمہاری خود ساختہ رسموں پر غالب ہیں)۔“ کبھی (راوی) یوں کہتے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قوت تمہاری قوت سے زیادہ ہے اور اللہ کا استرا تمہارے استرے سے زیادہ تیز ہے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میں کسی شخص کے ہاں مہمان بنوں اور وہ میری مہمانی نہ کرے، پھر وہ میرے پاس مہمان بن کر آئے، تو کیا میں اس کے ساتھ وہی سلوک کروں جو اس نے میرے ساتھ کیا یا میں اس کی مہمانی کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”(نہیں) بلکہ تم اس کی مہمانی کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: (3) نسخہ (ص) اور (م) میں یہ لفظ تحریف ہو کر "الحلیمی" بن گیا ہے۔
(1) إسناده صحيح. أبو إسحاق: هو عمرو بن عبد الله السَّبيعيّ، وأبو الأحوص: هو عوف بن مالك بن نضلة الجُشمي. وسلف برقم (65).
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو اسحاق سے مراد "عمرو بن عبد اللہ سبیعی" اور ابو الاحوص سے مراد "عوف بن مالک بن نضلہ جشمی" ہیں۔ یہ روایت نمبر (65) پر گزر چکی ہے۔