کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جس کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی تنگی و سختی پر صبر کرے، اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا محمد بن سِنان القزَّاز، حدّثنا حماد بن مَسْعَدة، عن ابن جُرَيج، عن أبي الزُّبير، عن عمر بن نَبْهان، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن كُنَّ له ثلاث بناتٍ، فَصَبَرَ عَلى لأَوائِهِنَّ وَسَرّائهنَّ، أدخَلَه الله الجنة برحمته إياهنَّ" قال: فقال رجلٌ: وابنتانِ يا رسول الله؟ قال: "وابنَتانِ" قال رجل: يا رسول الله، وواحدةٌ؟ قال: "وواحدة" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7346 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7346 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی سختی و نرمی (تنگی و آسانی) پر صبر کرے، تو اللہ تعالیٰ ان (بیٹیوں) پر اپنی رحمت کی وجہ سے اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔“ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اور اگر دو ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور دو (بیٹیوں پر بھی)۔“ پھر ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اور اگر ایک ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور ایک (پر بھی)۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدّثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدّثنا مُسدَّد، حدّثنا المُعتمِر، قال: سمعتُ حميدًا يُحدِّث عن أنس قال: مرَّ النبيُّ ﷺ بأُناسٍ من أصحابه وصبيٌّ بين ظهرانَي الطريق، فلما رأت أُمُّه الدوابَّ، خَشِيَتْ على ابنها أن يُوطأَ، فسَعَتْ والهةً، فقالت: ابني ابني، فاحتمَلَتْ ابنَها، فقال القومُ: يا نبيَّ الله، ما كانت هذه لِتُلقيَ ابنها في النار، فقال رسول الله ﷺ: "لا واللهِ، لا يُلقي الله حبيبه في النَّار"، قال: فخَصَمَهم نبيُّ الله ﷺ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7347 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7347 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے پاس سے گزرے، وہاں راستے میں ایک بچہ تھا، جب اس کی ماں نے جانوروں (کے غول) کو دیکھا تو اسے اپنے بیٹے کے پاؤں تلے کچلے جانے کا خوف ہوا، وہ دیوانہ وار گھبرا کر دوڑی اور پکارنے لگی: ہائے میرا بچہ، ہائے میرا بچہ! پھر اس نے اپنے بیٹے کو اٹھا لیا، لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! یہ ماں ایسی نہیں ہے کہ اپنے بچے کو آگ میں پھینک دے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں اللہ کی قسم! اللہ بھی اپنے محبوب کو آگ میں نہیں پھینکے گا۔“ راوی کہتے ہیں: پس اللہ کے نبی ﷺ نے (ان کی بات سے اپنی بات ثابت کر کے) ان پر دلیل قائم کر دی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدّثنا الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل، حدّثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا جعفر بن عَون، أخبرنا أبو مالك الأشجعيّ، عن زياد بن حُدَير، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ: "من وُلِدَت له أنثى فلم يَئِدْها، ولم يُهِنْها، ولم يُؤثِرْ ولدَه - يعني الذَّكر - عليها، أدخله الله بها الجنَّةَ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7348 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7348 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے ہاں بیٹی پیدا ہو اور وہ اسے (زمانہ جاہلیت کی طرح) زندہ درگور نہ کرے، نہ اسے ذلیل سمجھے اور نہ ہی اپنے بیٹے کو اس پر ترجیح دے، تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو الحسن محمد بن علي بن بكر العدل ابن ابنةِ إبراهيم بن هانئ، حدّثنا السَّرِيّ بن خُزَيمة، حدّثنا مسلم بن إبراهيم، حدّثنا عُبيد الرحمن بن فَضَالة، حدّثنا بكر بن عبد الله المُزَنيّ، عن أنس بن مالك قال: جاءت امرأةٌ إلى عائشة تسألُ ومعها صبيَّانِ، فأعطتها ثلاثَ تَمَرات، فأعطَتْ كلَّ صبي تمرةً، وأمسكَتْ لنفسِها تمرةً، فأكل الصبيَّانِ التمرتينِ، فعَمَدَتْ إلى التمرة فشقَّتها نِصفَينِ، فأعطَتْ كلَّ صبيٍّ لها نصفَ تمرة، فجاء النبيُّ ﷺ فَأَخبَرَتْه، فقال: "وما يُعجِبُكِ منها، لقد رَحِمَها الله برحمتِها صَبِيَّيْها" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7349 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7349 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس کچھ مانگنے آئی اور اس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اسے تین کھجوریں عطا کیں، اس عورت نے دونوں بچوں کو ایک ایک کھجور دے دی اور ایک کھجور اپنے (کھانے کے) لیے رکھ لی۔ ان دونوں بچوں نے اپنی کھجوریں کھا لیں، پھر اس عورت نے اپنی کھجور پکڑی اور اسے دو حصوں میں تقسیم کر دیا اور اپنے دونوں بچوں کو آدھی آدھی کھجور دے دی۔ جب نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو اس واقعے کی خبر دی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں اس کی اس بات پر کیا تعجب ہے؟ یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس کے اپنے بچوں پر رحم کرنے کی وجہ سے اس پر رحم فرمایا ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔