المستدرك على الصحيحين
كتاب البر والصلة— نیکی اور بھلائی کے کام
مَنْ كُنَّ لَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ فَصَبَرَ عَلَى لَأْوَائِهِنَّ أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ باب: جس کی تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی تنگی و سختی پر صبر کرے، اللہ اسے جنت میں داخل فرمائے گا
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدّثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدّثنا مُسدَّد، حدّثنا المُعتمِر، قال: سمعتُ حميدًا يُحدِّث عن أنس قال: مرَّ النبيُّ ﷺ بأُناسٍ من أصحابه وصبيٌّ بين ظهرانَي الطريق، فلما رأت أُمُّه الدوابَّ، خَشِيَتْ على ابنها أن يُوطأَ، فسَعَتْ والهةً، فقالت: ابني ابني، فاحتمَلَتْ ابنَها، فقال القومُ: يا نبيَّ الله، ما كانت هذه لِتُلقيَ ابنها في النار، فقال رسول الله ﷺ: "لا واللهِ، لا يُلقي الله حبيبه في النَّار"، قال: فخَصَمَهم نبيُّ الله ﷺ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7347 - على شرط البخاري ومسلمسیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے پاس سے گزرے، وہاں راستے میں ایک بچہ تھا، جب اس کی ماں نے جانوروں (کے غول) کو دیکھا تو اسے اپنے بیٹے کے پاؤں تلے کچلے جانے کا خوف ہوا، وہ دیوانہ وار گھبرا کر دوڑی اور پکارنے لگی: ہائے میرا بچہ، ہائے میرا بچہ! پھر اس نے اپنے بیٹے کو اٹھا لیا، لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! یہ ماں ایسی نہیں ہے کہ اپنے بچے کو آگ میں پھینک دے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں اللہ کی قسم! اللہ بھی اپنے محبوب کو آگ میں نہیں پھینکے گا۔“ راوی کہتے ہیں: پس اللہ کے نبی ﷺ نے (ان کی بات سے اپنی بات ثابت کر کے) ان پر دلیل قائم کر دی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: معتمر سے مراد "ابن سلیمان" ہیں اور حمید سے مراد "حمید الطویل" ہیں۔
وسلف عند المصنّف برقم (195).
نوٹ / توضیح: یہ روایت مصنف کے ہاں پہلے نمبر (195) پر گزر چکی ہے۔