کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جو عورت اس حال میں فوت ہو کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو، وہ جنت میں داخل ہوگی
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا أحمد بن عبد الجبار، حدّثنا محمد بن فُضيل، حدّثنا عبد الله بن عبد الرحمن الضَّبيّ، حدّثنا مُساوِر بن عبد الله الحِميريّ، عن أمِّه، قالت: سمعتُ أمَّ سلمة تقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "أيُّما امرأةٍ ماتت وزوجها عنها راضٍ، دخلت الجنَّةَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7328 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7328 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو عورت بھی اس حال میں فوت ہو کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو، تو وہ جنت میں داخل ہو گئی۔“
امام حاکم نے فرمایا کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔
امام حاکم نے فرمایا کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدّثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزَة، حدّثنا قَبيصة بن عُقبة، حدّثنا سفيان، عن أبي الزِّناد، عن موسى بن أبي عثمان، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله: "لا تصومُ المرأةُ وزوجُها شاهدٌ إلا بإذنِه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7329 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7329 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر (نفلی) روزہ نہ رکھے۔“
امام حاکم نے فرمایا کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا!
امام حاکم نے فرمایا کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا!
أخبرنا إسماعيل بن محمد الفقيه بالرّيّ، حدّثنا محمد بن مَندَهْ الأصبهانيّ، حدّثنا بكر بن بكَّار، حدّثنا عمر بن عُبيد، عن إبراهيم بن مُهاجر، عن نافع، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "اثنانَ لا تجاوزُ صلاتُهما رؤوسَهما: عبدٌ أَبَقَ من مَوَالِيه حتى يَرجِعَ، وامرأةٌ عَصَتْ زوجَها حتى تَرجِعَ" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7330 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7330 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دو لوگ ایسے ہیں جن کی نماز ان کے سروں سے اوپر نہیں جاتی (یعنی شرفِ قبولیت نہیں پاتی): ایک وہ غلام جو اپنے مالکوں سے بھاگ گیا ہو جب تک کہ وہ لوٹ نہ آئے، اور دوسری وہ عورت جس نے اپنے شوہر کی نافرمانی کی ہو جب تک کہ وہ (اطاعت کی طرف) باز نہ آ جائے۔“
حدّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدّثنا حُميد بن عيّاش الرَّمْلي، حدّثنا مُؤمَّل بن إسماعيل، حدّثنا سفيان عن الأعمش، عن سالم بن أبي الجَعْد، عن أبي أُمامة قال: أبصر النبيُّ ﷺ امرأةً معها صبيّتانِ قد حَمَلَتْ إحداهما، وهي تقودُ الأخرى، فقال رسول الله ﷺ: "والداتٌ حاملاتٌ رَحيماتٌ، لولا ما يأتِينَ إلى أزواجهنَّ لَدَخَلَ مُصلِّياتُهنَّ الجنَّةَ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد أعضلَه شعبةُ عن الأعمش (2):
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7331 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد أعضلَه شعبةُ عن الأعمش (2):
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7331 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک عورت کو دیکھا جس کے ساتھ دو بچیاں تھیں، ایک کو اس نے اٹھایا ہوا تھا اور دوسری کو ساتھ چلا رہی تھی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ مائیں ہیں جو بچوں کو اٹھانے والی اور نہایت رحم کرنے والی ہیں، اگر وہ کوتاہیاں نہ ہوتیں جو یہ اپنے شوہروں کے حق میں کرتی ہیں، تو ان میں سے نماز پڑھنے والی عورتیں یقیناً جنت میں داخل ہو جاتیں۔“
امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الإسناد ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور امام شعبہ نے اسے اعمش سے معضل روایت کیا ہے:
امام حاکم نے فرمایا کہ یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح الإسناد ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور امام شعبہ نے اسے اعمش سے معضل روایت کیا ہے:
أخبرَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، حدّثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدّثنا أبو الوليد ومحمد بن كثير، قالا: حدّثنا شُعبة. وحدثنا أبو بكر بن بالوَيهِ، حدّثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبيّ، حدّثنا محمد بن جعفر، حدّثنا شعبة، عن منصور، عن سالم بن أبي الجَعْد، قال: ذُكر لي عن أبي أُمامة: أنَّ امرأةٌ أنتِ النبيّ ﷺ ومعها ولدان، فأعطاها ثلاثَ تَمَرات، فأعطَتْ كلَّ واحد منهما تمرةً تمرةً، ثم إنَّ أحد الصبيين بكى فشَفَقَتْها، فأعطَتْ كلَّ واحد منهما النِّصفَ، فقال رسول الله ﷺ: "والداتٌ رحيماتٌ بأولادِهنَّ، لولا ما يَصنَعْنَ بأزواجهنَّ، دَخَلَ مُصلِّياتُهنَّ الجنَّةَ" (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں آئی جس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے، آپ ﷺ نے اسے تین کھجوریں عطا فرمائیں، اس عورت نے ان دونوں بچوں کو ایک ایک کھجور دے دی، پھر ان میں سے ایک بچہ رونے لگا تو اس نے شفقت کی وجہ سے (تیسری کھجور کے بھی دو حصے کر کے) ہر ایک کو آدھی آدھی دے دی، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”«والدات» (مائیں) اپنے بچوں پر نہایت رحم کرنے والی ہیں، اگر وہ اپنے شوہروں کے ساتھ (نامناسب) سلوک نہ کرتیں تو ان میں سے نماز پڑھنے والی عورتیں ضرور جنت میں داخل ہوتیں۔“