المستدرك على الصحيحين
كتاب البر والصلة— نیکی اور بھلائی کے کام
أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَنْهَا رَاضٍ دَخَلَتِ الْجَنَّةَ باب: جو عورت اس حال میں فوت ہو کہ اس کا شوہر اس سے راضی ہو، وہ جنت میں داخل ہوگی
حدیث نمبر: 7520
أخبرَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق، حدّثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدّثنا أبو الوليد ومحمد بن كثير، قالا: حدّثنا شُعبة. وحدثنا أبو بكر بن بالوَيهِ، حدّثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدَّثني أبيّ، حدّثنا محمد بن جعفر، حدّثنا شعبة، عن منصور، عن سالم بن أبي الجَعْد، قال: ذُكر لي عن أبي أُمامة: أنَّ امرأةٌ أنتِ النبيّ ﷺ ومعها ولدان، فأعطاها ثلاثَ تَمَرات، فأعطَتْ كلَّ واحد منهما تمرةً تمرةً، ثم إنَّ أحد الصبيين بكى فشَفَقَتْها، فأعطَتْ كلَّ واحد منهما النِّصفَ، فقال رسول الله ﷺ: "والداتٌ رحيماتٌ بأولادِهنَّ، لولا ما يَصنَعْنَ بأزواجهنَّ، دَخَلَ مُصلِّياتُهنَّ الجنَّةَ" (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں آئی جس کے ساتھ اس کے دو بچے تھے، آپ ﷺ نے اسے تین کھجوریں عطا فرمائیں، اس عورت نے ان دونوں بچوں کو ایک ایک کھجور دے دی، پھر ان میں سے ایک بچہ رونے لگا تو اس نے شفقت کی وجہ سے (تیسری کھجور کے بھی دو حصے کر کے) ہر ایک کو آدھی آدھی دے دی، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”«والدات» (مائیں) اپنے بچوں پر نہایت رحم کرنے والی ہیں، اگر وہ اپنے شوہروں کے ساتھ (نامناسب) سلوک نہ کرتیں تو ان میں سے نماز پڑھنے والی عورتیں ضرور جنت میں داخل ہوتیں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده ضعيف لانقطاعه كما سلف بيانه في الرواية السابقة. أبو الوليد: هو هشام بن عبد الملك الطيالسي.
درجۂ حدیث: (3) اس کی اسناد انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے، جیسا کہ پچھلی روایت میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو الولید سے مراد ہشام بن عبد الملک طیالسی ہیں۔
وهو في "مسند أحمد" (36/ 22173) عن محمد بن جعفر، وقرن به حجاجَ بن محمد المصّيصي.
حوالہ / مصدر: یہ "مسند احمد" (36/ 22173) میں محمد بن جعفر سے مروی ہے، اور انہوں نے (اس روایت میں) اپنے ساتھ حجاج بن محمد المصیصی کو ملایا ہے۔
وأخرجه أحمد أيضًا (22219) من طريق شريك النخعيّ، و (22311) عن زياد بن عبد الله البكائيّ، كلاهما عن منصور بن المعتمر، عن سالم، عن أبي أمامة، لم يذكرا فيه إرسالًا.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (22219) میں شریک نخعی کے طریق سے، اور (22311) میں زیاد بن عبد اللہ البکائی سے، ان دونوں نے منصور بن معتمر سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے ابو امامہ سے روایت کیا ہے، ان دونوں نے اس میں ارسال (انقطاع) کا ذکر نہیں کیا۔
درجۂ حدیث: (3) اس کی اسناد انقطاع کی وجہ سے ضعیف ہے، جیسا کہ پچھلی روایت میں اس کا بیان گزر چکا ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو الولید سے مراد ہشام بن عبد الملک طیالسی ہیں۔
وهو في "مسند أحمد" (36/ 22173) عن محمد بن جعفر، وقرن به حجاجَ بن محمد المصّيصي.
حوالہ / مصدر: یہ "مسند احمد" (36/ 22173) میں محمد بن جعفر سے مروی ہے، اور انہوں نے (اس روایت میں) اپنے ساتھ حجاج بن محمد المصیصی کو ملایا ہے۔
وأخرجه أحمد أيضًا (22219) من طريق شريك النخعيّ، و (22311) عن زياد بن عبد الله البكائيّ، كلاهما عن منصور بن المعتمر، عن سالم، عن أبي أمامة، لم يذكرا فيه إرسالًا.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (22219) میں شریک نخعی کے طریق سے، اور (22311) میں زیاد بن عبد اللہ البکائی سے، ان دونوں نے منصور بن معتمر سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے ابو امامہ سے روایت کیا ہے، ان دونوں نے اس میں ارسال (انقطاع) کا ذکر نہیں کیا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7520 سے ماخوذ ہے۔