حدیث نمبر: 7506
حدّثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهانيّ، حدّثنا أحمد بن يونس الضبيِّ بأصبهان، حدّثنا أبو بدر شُجَاع بن الوليد، قال: سمعتُ زياد بن خيثمة يُحدِّث عن أبيه، عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ الله عبادًا ليسوا بأنبياءَ ولا شهداءَ، يَغبِطُهم [النبيُّون والشهداء] (1) يوم القيامة بقربهم ومجلسهم منه"، فجَثَا أعرابيٌّ على رُكبتيه، فقال: يا رسولَ الله، قوم ليسوا بأنبياءَ ولا شهداءَ، يَغبِطُهم الأنبياءُ والشهداءُ بقُربِهم من الله تعالى ومجلسِهم منه! صفهم لنا وجَلِّهم لنا، قال: "قومٌ من أفناءِ الناس من نُزَّاع القبائل تَصَافَوا في الله، وتَحابُّوا فيه، يضعُ اللَّهُ ﷿ لهم يوم القيامة منابرَ من نور، يَخافُ الناسُ ولا يَخافُون، هم أولياء الله ﷿ الذين لا خوفٌ عليهم ولا هم يَحزَنون" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7318 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جو نہ تو انبیاء ہیں اور نہ ہی شہداء، مگر قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے قرب اور مقام و مرتبہ کو دیکھ کر انبیاء اور شہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔“ اس پر ایک دیہاتی گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ لوگ جو نہ انبیاء ہیں اور نہ شہداء، مگر اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے قرب اور مقام کو دیکھ کر انبیاء اور شہداء ان پر رشک کریں گے! ہمارے لیے ان کے اوصاف بیان فرمائیے اور ان کی حقیقت ہم پر واضح کر دیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وہ لوگ ہوں گے جو مختلف خاندانوں اور بچھڑے ہوئے قبائل سے تعلق رکھنے کے باوجود صرف اللہ کی رضا کے لیے آپس میں دوست بن گئے اور اسی کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے لیے نور کے منبر بچھائے گا، جب دوسرے لوگ خوفزدہ ہوں گے تو انہیں کوئی خوف نہیں ہوگا، یہی وہ اللہ کے دوست ہیں جن پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔“
امام حاکم نے فرمایا کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن امام بخاری اور امام مسلم نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب البر والصلة / حدیث: 7506
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات غير شجاع بن الوليد فصدوق لا بأس به، ولا نعرف لزياد بن خيثمة» [ترقيم الرساله 7506] [ترقيم الشركة 7414] [ترقيم العلميه 7318]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) ما بين المعقوفين أثبتناه من "تلخيص الذهبي".
نوٹ / توضیح: (1) بریکٹ کے درمیان والی عبارت ہم نے ذہبی کی "تلخیص" سے ثابت (درج) کی ہے۔
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله ثقات غير شجاع بن الوليد فصدوق لا بأس به، ولا نعرف لزياد بن خيثمة - وهو الجعفي - سماعًا ولا رواية عن أبيه إلا في هذه الرواية، فالله أعلم.
درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، فنی نکتہ / علّت: اس سند کے رجال ثقہ ہیں سوائے شجاع بن ولید کے جو صدوق (سچے) ہیں اور ان میں کوئی حرج نہیں، البتہ ہم زیاد بن خیثمہ (جو کہ جعفی ہیں) کا اپنے والد سے سماع یا روایت اس روایت کے علاوہ کہیں نہیں جانتے، واللہ اعلم۔
ويشهد له حديث أبي هريرة عند النسائيّ (11172)، وابن حبان (573)، ولفظه عند ابن حبان: "إنَّ من عباد الله عبادًا ليسوا بأنبياء يغبطهم الأنبياء والشهداء قيل: من هم لعلنا نحبُّهم؟ قال: "هم قوم تحابُّوا بنور الله من غير أرحام ولا انتساب، وجوههم نور، على منابَر من نور، لا يخافون إذا خاف الناس، ولا يحزنون إذا حزن الناس" ثم قرأ: ﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾.
متابعات و شواہد: اس کی تائید میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے جو نسائی (11172) اور ابن حبان (573) کے پاس ہے، ابن حبان کے الفاظ یہ ہیں: ’’بے شک اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے بندے ہیں جو نہ انبیاء ہیں اور نہ شہداء، لیکن انبیاء اور شہداء ان پر رشک کریں گے، کہا گیا: وہ کون ہیں تاکہ ہم ان سے محبت کریں؟ فرمایا: وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے نور (کی وجہ سے) آپس میں محبت کی، بغیر کسی رشتہ داری اور نسب کے، ان کے چہرے نور والے ہوں گے، وہ نور کے منبروں پر ہوں گے، جب لوگ ڈریں گے تو وہ نہیں ڈریں گے، اور جب لوگ غمگین ہوں گے تو وہ غمگین نہیں ہوں گے‘‘، پھر آپ نے آیت تلاوت فرمائی: ﴿أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللَّهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ﴾۔
وانظر حديث معاذ بن جبل السالف برقم (7504) والآتي برقم (8501).
تفصیلِ روایت: اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی سابقہ حدیث نمبر (7504) اور آئندہ آنے والی حدیث نمبر (8501) ملاحظہ کریں۔
وانظر "مسند أحمد" 37/ (22897).
حوالہ / مصدر: اور "مسند احمد" 37/ (22897) ملاحظہ کریں۔
(1) إسناده حسن من أجل موسى بن وردان. أبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمرو.
درجۂ حدیث: (1) موسیٰ بن وردان کی وجہ سے اس کی اسناد حسن ہے۔
نوٹ / توضیح: ابو عامر عقدی سے مراد عبد الملک بن عمرو ہیں۔
وأخرجه أحمد 13/ (8028) و 14/ (8417)، وأبو داود (4833)، والترمذيّ (2378) من طرق عن زهير بن محمد به. وقال الترمذيّ: حسن غريب.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 13/ (8028) اور 14/ (8417)، ابوداؤد (4833) اور ترمذی (2378) نے زہیر بن محمد سے متعدد طرق کے ساتھ اسی سند سے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے کہا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7506 سے ماخوذ ہے۔