کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جس نے اپنے بھائی سے سال بھر قطع تعلقی رکھی، یہ ایسا ہی ہے جیسے اس کا خون بہایا
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدّثنا أبو يحيى بن أبي مَسَرَّة، حدّثنا عبد الله بن يزيد المُقرئ، حدّثنا حَيْوة، حدَّثني أبو عثمان بن أبي الوليد، أنَّ عِمران بن أبي أنس حدَّثه عن أبي خِراش السُّلمي، أنه سمع رسولَ الله ﷺ يقول: "مَن هَجَرَ أخاه سَنةً، فهو كسَفكِ دِمه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7292 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7292 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو خراش سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس نے اپنے بھائی سے ایک سال تک قطع تعلق رکھا، تو یہ اس کا خون بہانے کے مترادف ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا إسحاق بن سعد بن الحسن بن سفيان بنَسَا، حدّثنا جدِّي، حدّثنا إبراهيم بن سعيد الجوهريّ، حدّثنا سعيد بن محمد، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: مَن سيِّدُكم يا بني عُبيدٍ؟ " قالوا: الجَدُّ بن قيس على أنَّ فيه بخلًا، قال: وأي داءٍ أدْوَى من البخل؟ بل سيِّدكُم وابنُ سيِّدُكم بِشرُ بن البَرَاءِ بن مَعرُور" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وسعيد بن محمد: هو الوراق، ثقةٌ مأمون، وقد كَتَبناه من حديث عمرو بن دينار عن أبي سَلَمة (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وسعيد بن محمد: هو الوراق، ثقةٌ مأمون، وقد كَتَبناه من حديث عمرو بن دينار عن أبي سَلَمة (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے بنو عبید! تمہارا سردار کون ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: جد بن قیس، البتہ اس میں کچھ بخل (کنجوسی) ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اور بخل سے بڑھ کر اور کون سی بیماری زیادہ تکلیف دہ ہو سکتی ہے؟ بلکہ تمہارا اور تمہارے سردار کا بیٹا بشر بن براء بن معرور (سردار) ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور سعید بن محمد الوراق ثقہ اور مامون راوی ہیں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور سعید بن محمد الوراق ثقہ اور مامون راوی ہیں۔