حدیث نمبر: 7481
حدّثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدّثنا إبراهيم بن عبد الله، حدّثنا أبو عاصم، أخبرنا جعفر بن يحيى بن ثَوْبان، عن عمِّه عُمَارة بن ثَوْبان، عن أبي الطُّفيل قال: رأيتُ رسول الله ﷺ بالجِعْرانة، فجاءته امْرأةٌ وأنا يومئذٍ غلامٌ، فلما دَنَتْ من النبيّ ﷺ بَسَطَ لها رِداءَه، فجلست عليه، فقلت: مَن هذه؟ فقالوا: هذه أُمُّه التي أرضَعَتْه (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7294 - حذفه الذهبي من التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابو طفیل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے مقامِ جعرانہ میں رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ کے پاس ایک خاتون آئیں جبکہ میں اس وقت ایک لڑکا تھا، جب وہ نبی کریم ﷺ کے قریب پہنچیں تو آپ ﷺ نے ان کے لیے اپنی چادر بچھا دی اور وہ اس پر بیٹھ گئیں، میں نے پوچھا: یہ کون ہیں؟ لوگوں نے بتایا: یہ آپ ﷺ کی وہ ماں ہیں جنہوں نے آپ ﷺ کو دودھ پلایا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب البر والصلة / حدیث: 7481
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة جعفر بن يحيى بن ثوبان وعمّه عمارة، وتقدم الكلام عليه فيما سلف برقم (6740)» [ترقيم الرساله 7481] [ترقيم الشركة 7390] [ترقيم العلميه 7294]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة جعفر بن يحيى بن ثوبان وعمّه عمارة، وتقدم الكلام عليه فيما سلف برقم (6740). إبراهيم بن عبد الله: هو ابن يزيد السعديّ، وأبو عاصم: هو الضحاك بن مخلد النبيل، وأبو الطفيل: هو عامر بن واثلة.
درجۂ حدیث: یہ روایت "حسن لغیرہ" ہے، لیکن یہ سند جعفر بن یحییٰ بن ثوبان اور ان کے چچا عمارہ کی جہالت (نامعلوم ہونے) کی وجہ سے ضعیف ہے، اس پر کلام پہلے نمبر (6740) پر گزر چکا ہے۔
نوٹ / توضیح: سند میں ابراہیم بن عبد اللہ سے مراد "ابن یزید السعدی" ہیں، ابو عاصم سے مراد "ضحاک بن مخلد النبیل" ہیں، اور ابو الطفیل سے مراد "عامر بن واثلہ" ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7481 سے ماخوذ ہے۔