المستدرك على الصحيحين
كتاب البر والصلة— نیکی اور بھلائی کے کام
مَنْ أَرَادَ أَنْ يُمَدَّ فِي رِزْقِهِ فَلْيَصِلْ ذَا رَحِمِهِ باب: جو اپنے رزق میں وسعت چاہتا ہو، اسے چاہیے کہ اپنے رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کرے
حدیث نمبر: 7474
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن شاذانَ الجَوهَري، حدثنا عمرو بن مرزوق، أخبرنا شُعبة. وأخبرني أحمد بن موسى الفقيه، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنّى ومحمد بن بشّار قالا: حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شُعبة، قال: سمعتُ محمد بن عبد الجبار يحدِّث عن محمد بن كعب، عن أبي هريرة، عن النبيِّ ﷺ قال: "إِنَّ الرَّحِمَ شُجْنةٌ من الرحمن، تقول: يا ربَّ إِنِّي قُطِعتُ، إِنِّي أُسِيءَ إِليَّ يا ربِّ، فيُجيبُها ربُّها فيقول: ألا تَرضَيْنَ أن أَصِلَ من وَصَلَكِ، وأقطعَ من قَطَعَكِ" (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7287 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بے شک رحم (رشتہ داری) رحمن کی ایک شاخ ہے، وہ عرض کرتی ہے: اے میرے رب! بے شک میرا تعلق توڑ دیا گیا، اے میرے رب! میرے ساتھ برا سلوک کیا گیا، تو اس کا رب اسے جواب دیتے ہوئے فرماتا ہے: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ میں اسے جوڑوں جو تجھے جوڑے، اور اسے کاٹ دوں جو تجھے کاٹے؟“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) حديث صحيح، وهذا إسناد ليِّن من أجل محمد بن عبد الجبار - وهو الأنصاري - فقد تفرَّد بالرواية عنه، شعبة، وقال أبو حاتم: شيخ، وذكره ابن حبان في "الثقات". وأخرجه أحمد 15/ (9871) عن محمد بن جعفر، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، البتہ یہ سند محمد بن عبد الجبار - جو کہ انصاری ہیں - کی وجہ سے "لین" (کمزور/نرم) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: کیونکہ ان سے روایت کرنے میں شعبہ منفرد ہیں (اکیلے راوی ہیں)۔ امام ابو حاتم نے فرمایا: وہ "شیخ" ہیں، اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (15/ 9871) نے محمد بن جعفر سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 13 / (7931) و 14 / (8975) و 15 (9273) و (9871)، وابن حبان (442) و (444) من طرق عن شعبة به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (13/ 7931، 14/ 8975، 15/ 9273 اور 9871) اور ابن حبان (442 اور 444) نے مختلف طرق سے شعبہ سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، البتہ یہ سند محمد بن عبد الجبار - جو کہ انصاری ہیں - کی وجہ سے "لین" (کمزور/نرم) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: کیونکہ ان سے روایت کرنے میں شعبہ منفرد ہیں (اکیلے راوی ہیں)۔ امام ابو حاتم نے فرمایا: وہ "شیخ" ہیں، اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (15/ 9871) نے محمد بن جعفر سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 13 / (7931) و 14 / (8975) و 15 (9273) و (9871)، وابن حبان (442) و (444) من طرق عن شعبة به.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (13/ 7931، 14/ 8975، 15/ 9273 اور 9871) اور ابن حبان (442 اور 444) نے مختلف طرق سے شعبہ سے، اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7474 سے ماخوذ ہے۔