کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: بے شک اللہ نے شراب اور اس کے پینے والے پر لعنت فرمائی ہے
حدثنا أبو العباس، أخبرنا محمد بن عبد الله، أخبرنا ابن وهب، أخبرني مالك بن خَيْر الزَّبَادِي، أَنَّ مالك بن سعد التُّجيبي حدثه، أنه سمع عبدَ الله بن عباس يقول: إنَّ رسول الله ﷺ أتاه جبريلُ ﵇ فقال: "يا محمدُ، إِنَّ الله لعنَ الخمرَ وعاصرَها ومُعتصِرَها، وحاملَها والمحمولةَ إليه، وشاربَها وبائعَها ومُبتاعَها، وساقيَها ومُسقَاها" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7229 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7229 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور عرض کیا: ”اے محمد (ﷺ)! بے شک اللہ تعالیٰ نے شراب پر، اسے نچوڑنے والے پر، نچوڑوانے والے پر، اسے اٹھا کر لے جانے والے پر، جس کی طرف وہ لے جائی جائے اس پر، اسے پینے والے پر، اسے بیچنے والے پر، اسے خریدنے والے پر، اسے پلانے والے پر اور جسے پلائی جائے اس پر لعنت فرمائی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو سهل بن زياد القَطّان، حدثنا أبو قِلابةَ، حدثنا بَدَل بن المُحبَّر، حدثنا شُعبة، عن أيوب، عن نافع عن ابن عمر قال: قال رسول الله ﷺ: من شَرِبَ الخمرَ في الدنيا، لم يَشْربِها في الآخرة (2).
هذا حديث صحيح غريب من حديث شُعبة، وقد اتفق الشيخانِ ﵄ على حديث عُبيد الله بن عمر وابن جُريج عن نافع في هذا الباب (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7230 - غريب من حديث شعبة
هذا حديث صحيح غريب من حديث شُعبة، وقد اتفق الشيخانِ ﵄ على حديث عُبيد الله بن عمر وابن جُريج عن نافع في هذا الباب (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7230 - غريب من حديث شعبة
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں شراب پی، وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا۔“
یہ شعبہ کی روایت سے ایک صحیح اور غریب حدیث ہے، اور شیخین نے اس باب میں نافع سے مروی عبید اللہ بن عمر اور ابن جریج کی حدیث پر اتفاق کیا ہے۔
یہ شعبہ کی روایت سے ایک صحیح اور غریب حدیث ہے، اور شیخین نے اس باب میں نافع سے مروی عبید اللہ بن عمر اور ابن جریج کی حدیث پر اتفاق کیا ہے۔