کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جس نے دنیا میں ریشم پہنا وہ آخرت میں اسے نہیں پہن سکے گا
حدثنا مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا محمد بن المبارك الصُّوري، حدثنا يحيى بن حمزة، حدثني زيد (5) بن واقد، أنَّ خالد بن عبد الله بن حسين حدّثه قال: حدثني أبو هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "مَن لَبِسَ الحرير في الدنيا لم يُكسَهُ (6) في الآخرة، ومن شَرِبَ الخمر في الدنيا لم يَشرَب في الآخرة، ومن شَرِبَ في آنيةِ الذهبِ والفضة لم يَشرَب بها في الآخرة" ثم قال: "لِباسُ أهلِ الجنة، وشرابُ أهلِ الجنة، وآنيةُ أهل الجنة" (7).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7216 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7216 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں ریشم پہنا اسے آخرت میں نہیں پہنایا جائے گا، اور جس نے دنیا میں شراب پی وہ اسے آخرت میں نہیں پیے گا، اور جس نے سونے اور چاندی کے برتنوں میں پیا وہ آخرت میں ان میں نہیں پیے گا“، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”(یہ سب) اہل جنت کا لباس، اہل جنت کا مشروب اور اہل جنت کے برتن ہیں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد بن السَّمّاك ببغداد، حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارثي، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادةَ، عن الحسن، عن جَوْن بن قَتَادة، عن سَلَمة بن المُحبَّق: أنَّ نبيَّ الله ﷺ في غزوة تبوكَ دعا بماء عند امرأةٍ، فقالت: ما عندي ماءٌ إِلَّا في قِرْبة لي مَيْتة، قال: "أليس قد دَبَغتيها؟ " قالت: بلى، قال: "فإنَّ ذَكَاتَها دِباغُها" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7217 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7217 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے غزوہ تبوک کے موقع پر ایک خاتون سے پانی طلب فرمایا، اس نے عرض کیا: میرے پاس اس مشکیزے کے علاوہ پانی نہیں ہے جو مردار (جانور کی کھال) سے بنا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے دباغت (رنگ) نہیں دی؟“ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”پس اس کی دباغت ہی اس کی پاکیزگی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔