کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جب تم رات کو سونے لگو تو مشکیزوں کے منہ بند کر دو اور دروازے لگا دیا کرو
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد البغدادي، حدثنا علي بن المبارك الصنعاني، حدثنا إسماعيل بن عبد الكريم أبو هشام الصَّنعاني، حدثني إبراهيم بن عَقيل بن معقل بن مُنبِّه، عن أبيه، عَقيل عن وهب قال هذا ما سألتُ عنه جابر بن عبد الله الأنصاري، وأخبرني أنَّ النبيَّ ﷺ كان يقولُ: "أَوكِئوا الأسقيةَ، وغَلِّقُوا: الأبوابَ إذا رَقَدتُم بالليل، وخمِّروا الشرابَ والطعامَ، فإنَّ الشيطانَ يأتي، فإن لم يجدِ الباب مغلقًا دخلَه، وإن لم يجدِ السِّقاءَ مُوكًى شَرِبَ منه، وإن وجد البابَ مغلقًا والسِّقاءَ مُوكًى، لم يَحُلَّ وِكاء، ولم يفتح بابًا مغلقًا، وإن لم يجد أحدُكم لإنائه ما يُخمِّرُه به، فليَعرُضْ عليه عُودًا" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7214 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”جب تم رات کو سونے لگو تو مشکیزوں کے منہ باندھ دیا کرو، دروازے بند کر دیا کرو اور کھانے پینے کی چیزوں کو ڈھانپ دیا کرو، کیونکہ شیطان آتا ہے، اگر اسے دروازہ کھلا ملے تو وہ داخل ہو جاتا ہے، اور اگر مشکیزہ بندھا ہوا نہ ملے تو وہ اس میں سے پی لیتا ہے، اور اگر وہ دروازہ بند اور مشکیزہ بندھا ہوا پائے تو وہ نہ تو بندھن کھولتا ہے اور نہ ہی بند دروازہ کھولتا ہے، اور اگر تم میں سے کسی کو اپنے برتن کو ڈھانپنے کے لیے کوئی چیز نہ ملے تو اسے چاہیے کہ اس پر کوئی لکڑی ہی چوڑائی میں رکھ دے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأشربة / حدیث: 7400
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، وقد صرَّح وهب - وهو ابن منبه - بسماعه من جابر، ومع ذلك قال ابن معين: وهب لم يلقَ جابرًا، إنما هو كتاب، وقال في موضع آخر: هو صحيفة ليست بشيء.» [ترقيم الرساله 7400] [ترقيم الشركة 7310] [ترقيم العلميه 7214]
حدثني عبد الله بن سعد الحافظ، حدثنا محمد بن إبراهيم بن سعيد (1) العَبْدي، حدثنا عُبيد الله بن عمر القواريري، حدثنا حَرَميُّ بن عُمارة، حدثني الحَريش (2) بن الخِرِّيث، حدثني ابن أبي مُلَيكة، عن عائشة أنها قالت: كنَّا نصنعُ لرسولِ الله ﷺ ثلاثَ أَوانٍ (3) مُخَمَّرة: إناءَ طَهُوره، وإناءً لسِواكِه، وإناءً لشرابِه (4).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7215 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم رسول اللہ ﷺ کے لیے تین ڈھکے ہوئے برتن تیار کرتی تھیں: ایک آپ ﷺ کی طہارت (وضو) کے لیے، ایک آپ ﷺ کی مسواک کے لیے اور ایک آپ ﷺ کے پینے کے مشروب کے لیے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأشربة / حدیث: 7401
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف الحريش بن الخرّيت ابن أبي مليكة: هو عبد الله بن عبيد الله.» [ترقيم الرساله 7401] [ترقيم الشركة 7311] [ترقيم العلميه 7215]