أخبرنا الحسن بن يعقوب العدل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا معاوية بن صالح، حدثنا عامر، عن خالد بن مَعْدان، قال: شهدتُ وليمةً في منزل عبد الأعلى ومعنا أبو أُمامةَ الباهلي، فلمَّا أنْ فرغنا من الطعام، قام فقال: ما أُريد أن أكونَ خطيبًا، ولكني سمعت رسول الله ﷺ عند فراغه من الطعام، فسمعتُه يقول عند انقضاء الطعام: "الحمدُ لله كثيرًا طيبًا مباركًا فيه غيرَ مُودَّع، ولا مُستغنًى عنه" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه. وشاهدُه أصح وأشهر رواةً منه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7191 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد ولم يُخرجاه. وشاهدُه أصح وأشهر رواةً منه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7191 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
خالد بن معدان بیان کرتے ہیں کہ میں عبد الاعلیٰ کے گھر ایک ولیمے میں شریک تھا جہاں ہمارے ساتھ سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے، جب ہم کھانے سے فارغ ہوئے تو وہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: میں کوئی خطیب بننا نہیں چاہتا، لیکن میں نے رسول اللہ ﷺ کو کھانے سے فارغ ہوتے وقت یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ایسی تعریف جو کثیر ہو، پاکیزہ ہو، جس میں برکت ہو، جس کو (کبھی) چھوڑا نہ جائے اور نہ ہی اس سے کبھی بے نیازی برتی جا سکے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا شاہد (دوسری روایت) اس سے زیادہ صحیح اور مشہور راویوں کے ساتھ موجود ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا شاہد (دوسری روایت) اس سے زیادہ صحیح اور مشہور راویوں کے ساتھ موجود ہے۔
أخبرَناه أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا يحيي، حدثنا ثَوْر، حدثنا خالد بن مَعْدان، عن أبي أُمامة قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا رُفِعَتِ المائدة من بين يديه يقول: "الحمدُ لله حمدًا كثيرًا طيبًا مباركًا فيه غيرَ مودِّع، ولا مُستغنًى عنه، ربُّنا" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7192 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7192 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے سے جب دسترخوان اٹھایا جاتا تو آپ ﷺ یہ دعا فرماتے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ غَيْرَ مُوَدَّعٍ، وَلَا مُسْتَغْنًى عَنْهُ، رَبُّنَا» ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں، ایسی تعریف جو کثیر ہو، پاکیزہ ہو، جس میں برکت ہو، جسے نہ تو الوداع کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس سے (کبھی) بے نیازی برتی جا سکتی ہے، اے ہمارے رب!“
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أَسد بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن أبي مَيْسرة، عن عائشة قالت: كانت لنا شاةٌ، فخَشِينا أن تموتَ، فقتلناها وقَسَمناها إِلَّا كَتِفَها (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7193 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7193 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہمارے پاس ایک بکری تھی، ہمیں اس کے مر جانے کا اندیشہ ہوا تو ہم نے اسے ذبح کر دیا اور اس کے کندھے کے گوشت کے علاوہ باقی تمام حصہ (صدقہ و خیرات میں) تقسیم کر دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔