حدیث نمبر: 7376
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أَسد بن موسى، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن أبي مَيْسرة، عن عائشة قالت: كانت لنا شاةٌ، فخَشِينا أن تموتَ، فقتلناها وقَسَمناها إِلَّا كَتِفَها (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7193 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہمارے پاس ایک بکری تھی، ہمیں اس کے مر جانے کا اندیشہ ہوا تو ہم نے اسے ذبح کر دیا اور اس کے کندھے کے گوشت کے علاوہ باقی تمام حصہ (صدقہ و خیرات میں) تقسیم کر دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأطعمة / حدیث: 7376
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، إسرائيل: هو ابن يونس بن عمرو بن عبد الله السبيعي، وأبو إسحاق جده، وأبو ميسرة: هو عمرو بن شرحبيل الهمداني الكوفي.» [ترقيم الرساله 7376] [ترقيم الشركة 7289] [ترقيم العلميه 7193]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح إسرائيل: هو ابن يونس بن عمرو بن عبد الله السبيعي، وأبو إسحاق جده، وأبو ميسرة: هو عمرو بن شرحبيل الهمداني الكوفي.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: سند میں موجود "إسرائیل" سے مراد اسرائیل بن یونس بن عمرو بن عبد اللہ السبیعی ہیں، اور "ابو اسحاق" ان کے دادا ہیں، جبکہ "ابو میسرہ" سے مراد عمرو بن شرحبیل الہمدانی الکوفی ہیں۔
ورواية المصنف مختصرة، وجاء بتمامه عند البيهقي في "الشعب" (3086) من طريق عبد الله بن رجاء عن إسرائيل، به، بلفظ: قال عائشة: كانت لنا شاةٌ أرادت أن تموتَ، فذبحناها فقسمناها، فجاء النبيُّ ﷺ فقال: "يا عائشةُ، ما فعلت شاتُكم؟ "قالت: أرادت أن تموتَ فذبحناها، فقسمناها ولم يبقَ عندنا منها إلَّا كتفُ الشاة، قال: "كلُّها لكم إلّا الكتف". وأخرجه أحمد 40 / (24240)، والترمذي (2470) من طريق سفيان الثَّوري، عن أبي إسحاق السبيعي، به مختصرًا. وصحَّحه الترمذي.
تفصیلِ روایت: مصنف کی روایت مختصر ہے، جبکہ امام بیہقی نے "شعب الایمان" (3086) میں عبد اللہ بن رجاء عن اسرائیل کے طریق سے اسے مکمل الفاظ کے ساتھ نقل کیا ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک بکری تھی جو مرنے کے قریب ہوئی تو اسے ذبح کر کے تقسیم کر دیا گیا، نبی ﷺ نے پوچھا: "اے عائشہ! بکری کا کیا ہوا؟" عرض کیا: "تقسیم کر دی، بس ایک دستی (کندھا) باقی بچا ہے"، آپ ﷺ نے فرمایا: "کندھے کے علاوہ وہ سب تمہارے لیے (آخرت کا ذخیرہ) بن گئی"۔
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (40/ 24240) اور امام ترمذی نے (2470) میں سفیان ثوری عن ابی اسحاق السبیعی کے طریق سے مختصراً روایت کیا ہے، اور امام ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7376 سے ماخوذ ہے۔