حدیث نمبر: 7337
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أَسد بن موسى، حدثنا مسلم بن خالد، حدثني زيد بن أسلم، عن سُمَيّ، عن أبي صالح، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ: "إذا دخلَ أحدُكم على أخيه فأطعَمَه طعامًا، فليأكُلْ منه ولا يَسأَلْه عنه، وإن سَقَاه شرابًا فليشرَبْ منه ولا يَسألْ عنه" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرط مسلم وحدَه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7160 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے ہاں جائے اور وہ اسے کھانا کھلائے تو وہ اسے کھا لے اور اس کے بارے میں سوال نہ کرے، اور اگر وہ اسے کوئی مشروب پلائے تو وہ اسے پی لے اور اس کے متعلق سوال نہ کرے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الأطعمة / حدیث: 7337
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، مسلم بن خالد» [ترقيم الرساله 7337] [ترقيم الشركة 7256] [ترقيم العلميه 7160]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف، مسلم بن خالد - وهو الزنجي - ضعيف. سُمَي: هو القرشي المخزومي مولاهم.
درجۂ حدیث: اس کی سند "ضعیف" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس کا راوی مسلم بن خالد (جو کہ الزنجی کے لقب سے مشہور ہیں) ضعیف ہے۔
نوٹ / توضیح: یہاں "سُمَی" سے مراد القرشی المخزومی (مولیٰ آل ابی بکر) ہیں۔
وأخرجه أحمد 15/ (9184) عن حسين بن محمد، عن مسلم بن خالد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے 15/ (9184) میں حسین بن محمد از مسلم بن خالد الزنجی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7337 سے ماخوذ ہے۔