أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعراني، حدثنا نُعَيم بن حمّاد، حدثنا ابن المبارك، أخبرنا مَعمَر، عن عمرو، عن عِكْرمة، عن أبي هريرة وابن عباس، عن النبيِّ ﷺ قال: "لا تأكلِ الشَّريطةَ، فإنها ذَبيحةُ الشيطان" (1). قال ابن المبارك: والشَّريطةُ: أن تُخرِجَ الروحَ منه بشَرطٍ من غير قطعِ حُلقومٍ.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7104 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7104 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”شریطہ (ذبیحہ) مت کھاؤ، کیونکہ وہ شیطان کا ذبیحہ ہے۔“ ابن مبارک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ”شریطہ“ سے مراد یہ ہے کہ جانور کے حلقوم (سانس اور کھانے کی نالی) کو مکمل طور پر کاٹے بغیر محض کھال پر کٹ لگا کر اسے چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ اسی زخم سے اس کی جان نکل جائے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن سِماك، عن عِكْرمة، عن ابن عباس قال: إنَّ الشياطينَ لَيُوحُون إلى أوليائِهم، فيقولون: ما ذبح اللهُ فلا تأكلوه، وما ذبحتُم أنتم فكلوه، فأنزل الله ﵎: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ﴾ [الأنعام: 121] (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7105 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7105 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ شیاطین اپنے دوستوں کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالتے تھے کہ وہ (مسلمانوں سے) کہیں: جسے اللہ نے ذبح کیا (یعنی جو جانور خود مر گیا) اسے تو تم نہیں کھاتے، لیکن جسے تم خود ذبح کرتے ہو اسے کھا لیتے ہو؟ تو اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ﴾ ”اور ایسے جانوروں میں سے مت کھاؤ جن پر (ذبح کے وقت) اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔“ [سورة الأنعام: 121]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔