أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُرَاساني العَدْل ببغداد، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرقان، حدثنا علي بن عاصم، حدثنا عبيد الله بن أبي بكر بن أنس، قال: سمعت أنسًا يقول: انتفجتُ أرنبًا بالبَقيع، فاشتُدَّ في أثرها، فكنتُ فيمن اشتدَّ، فسبقتُهم إليها فأخذتها، فأتيتُ بها أبا طلحةَ، فأمر بها فذُبحت ثم شُوِيَت، فأخذ عَجُزَها فأرسلَ به معي إلى النبيِّ ﷺ، فقال النبيُّ ﷺ: "ما هذا؟ " قلتُ: عَجُزُ أرنب بعث بها أبو طلحةَ إليك، فقَبِلَه مني (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7100 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7100 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بقیع میں ایک خرگوش بھاگا تو میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جو اسے پکڑنے کے لیے پیچھے دوڑے، میں سب سے آگے نکل گیا اور اسے پکڑ لیا، پھر میں اسے سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا تو انہوں نے اسے ذبح کر کے بھوننے کا حکم دیا، پھر انہوں نے خرگوش کا پچھلا حصہ (ران) مجھے دے کر نبی کریم ﷺ کی طرف بھیجا، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کی: یہ خرگوش کی ران ہے جو ابو طلحہ نے آپ کے لیے بھیجی ہے، تو آپ ﷺ نے اسے قبول فرما لیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، حدثني سعيد بن أبي هلال، أنَّ عبد الله بن عبيد الله حدثه عن أبي غَطَفان، عن أبي رافع قال: كنتُ أَشوي لرسولِ الله ﷺ بطنَ الشاة، فيأكلُ منه ثم يخرجُ إلى الصلاة (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7101 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7101 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے لیے بکری کا پیٹ (یا اوجھڑی کا گوشت) بھونا کرتا تھا، آپ ﷺ اس میں سے تناول فرماتے اور پھر (دوبارہ وضو کیے بغیر) نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔
حدَّثَناه أبو العباس في فوائد ابن عبد الحَكَم، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرني أبي وشعيبُ بن الليث، حدثنا الليث بن سعد، حدثنا خالد بن يزيد (2)، عن سعيد بن أبي هِلال، عن عُبيد الله بن أبي رافع، أنَّ أَبا غَطَفان المُرِّي حدَّثه عن أبي رافع قال: كنتُ أشوي لرسولِ الله ﷺ بطنَ الشاة - وقد توضَّأ للصلاة - فيأكلُ منه ثم يخرجُ إلى الصلاة (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے لیے بکری کے پیٹ (کا گوشت) بھونا کرتا تھا جبکہ آپ ﷺ نے نماز کے لیے وضو فرما رکھا ہوتا تھا، آپ ﷺ اسے تناول فرماتے اور پھر (دوبارہ وضو کیے بغیر) نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا إسماعيل، أخبرنا عبد الرحمن بن إسحاق، حدثنا عبد الرحمن بن معاوية، عن عثمان بن أبي سليمان، عن صفوان بن أُمية (2)، قال: رآني رسولُ الله ﷺ وأنا آخُذُ اللحمَ عن العَظْم بيدي، فقال لي: "يا صفوانُ" قلتُ: لبيك، قال: "قَرِّبِ اللحمَ من فيك، فإنه أهنأُ وأمرأُ" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7103 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7103 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اس حال میں دیکھا کہ میں گوشت کو ہڈی سے اپنے ہاتھ کے ذریعے (نوچ کر) علیحدہ کر رہا تھا، تو آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”اے صفوان!“ میں نے عرض کی: میں حاضر ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”گوشت کو اپنے منہ کے قریب لے جاؤ (اور دانتوں سے کاٹ کر کھاؤ)، کیونکہ یہ زیادہ لذیذ، خوشگوار اور جلد ہضم ہونے والا طریقہ ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔