المستدرك على الصحيحين
كتاب الأطعمة— کھانے کا بیان
قَبُولُ النَّبِيِّ عَجُزَ أَرْنَبٍ مَشْوِيٍّ باب: نبی کریم ﷺ کا بھنے ہوئے خرگوش کی ران قبول فرمانا
حدیث نمبر: 7277
أخبرنا عبد الله بن إسحاق الخُرَاساني العَدْل ببغداد، حدثنا يحيى بن جعفر بن الزِّبْرقان، حدثنا علي بن عاصم، حدثنا عبيد الله بن أبي بكر بن أنس، قال: سمعت أنسًا يقول: انتفجتُ أرنبًا بالبَقيع، فاشتُدَّ في أثرها، فكنتُ فيمن اشتدَّ، فسبقتُهم إليها فأخذتها، فأتيتُ بها أبا طلحةَ، فأمر بها فذُبحت ثم شُوِيَت، فأخذ عَجُزَها فأرسلَ به معي إلى النبيِّ ﷺ، فقال النبيُّ ﷺ: "ما هذا؟ " قلتُ: عَجُزُ أرنب بعث بها أبو طلحةَ إليك، فقَبِلَه مني (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7100 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بقیع میں ایک خرگوش بھاگا تو میں بھی ان لوگوں میں شامل تھا جو اسے پکڑنے کے لیے پیچھے دوڑے، میں سب سے آگے نکل گیا اور اسے پکڑ لیا، پھر میں اسے سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا تو انہوں نے اسے ذبح کر کے بھوننے کا حکم دیا، پھر انہوں نے خرگوش کا پچھلا حصہ (ران) مجھے دے کر نبی کریم ﷺ کی طرف بھیجا، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ میں نے عرض کی: یہ خرگوش کی ران ہے جو ابو طلحہ نے آپ کے لیے بھیجی ہے، تو آپ ﷺ نے اسے قبول فرما لیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف علي بن عاصم: وهو الواسطي.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، مگر یہ مخصوص سند علی بن عاصم الواسطی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وأخرجه أحمد 21 / (13430) عن علي بن عاصم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (21 / 13430) میں علی بن عاصم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 19/ (12182)، والبخاري (2572) و (5489)، ومسلم (1953)، وأبو داود (3791)، وابن ماجه (3243)، والترمذي (1789)، والنسائي (4805) من طريق هشام بن زيد بن أنس، عن جده أنس بن مالك.
حوالہ / مصدر: اسے اسی کے مثل امام احمد (19 / 12182)، بخاری (2572، 5489)، مسلم (1953)، ابو داؤد (3791)، ابن ماجہ (3243)، ترمذی (1789) اور نسائی (4805) نے ہشام بن زید بن انس کے طریق سے، اپنے دادا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
قوله: "انتفجت" الاستنفاج: الإثارة، يقال: أنفجها الصائد: إذا أثارها من مَجْثمها.
اہم نکتہ: لفظ "انتفجت" کا لغوی مطلب ہے ابھارنا یا بھڑکانا؛ کہا جاتا ہے: "أنفجها الصائد" یعنی شکاری نے جانور کو اس کے ٹھکانے سے ابھارا (تاکہ وہ باہر نکلے)۔
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے، مگر یہ مخصوص سند علی بن عاصم الواسطی کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے۔
وأخرجه أحمد 21 / (13430) عن علي بن عاصم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (21 / 13430) میں علی بن عاصم کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه بنحوه أحمد 19/ (12182)، والبخاري (2572) و (5489)، ومسلم (1953)، وأبو داود (3791)، وابن ماجه (3243)، والترمذي (1789)، والنسائي (4805) من طريق هشام بن زيد بن أنس، عن جده أنس بن مالك.
حوالہ / مصدر: اسے اسی کے مثل امام احمد (19 / 12182)، بخاری (2572، 5489)، مسلم (1953)، ابو داؤد (3791)، ابن ماجہ (3243)، ترمذی (1789) اور نسائی (4805) نے ہشام بن زید بن انس کے طریق سے، اپنے دادا حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔
قوله: "انتفجت" الاستنفاج: الإثارة، يقال: أنفجها الصائد: إذا أثارها من مَجْثمها.
اہم نکتہ: لفظ "انتفجت" کا لغوی مطلب ہے ابھارنا یا بھڑکانا؛ کہا جاتا ہے: "أنفجها الصائد" یعنی شکاری نے جانور کو اس کے ٹھکانے سے ابھارا (تاکہ وہ باہر نکلے)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 7277 سے ماخوذ ہے۔